سجاول میں قیام پاکستان سے قبل کے پرائمری اسکول کی اراضی پر نادرا نے قبضہ کرلیا

سجاول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2019ء) سجاول میں قیام پاکستان سے قبل کے پرائمری اسکول کی اراضی پر نادرا نے قبضہ کرلیاہے اور علیحدہ حدود بندی کردی ہے، سجاول میں سب سے پرانے اور قیام پاکستان سے قبل قائم کئے گئے پرائمری چانڈیہ اسکول کی تاریخی عمارت میں تعلیم پانے والوں میں نامورشخصیات شامل ہیں اور اس کو ایک منفردتاریخی حیثیت حاصل ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں نادرا کے قیام کے بعد سجاول میں تعلقہ ناظم نے چانڈیہ پرائمری اسکول کی عمارت سے متصل محکمہ تعلیم کے ایس ڈی او آفس کو خالی کراکے دونوں کمرے نادرا کو عنایت کردئے، محکمہ تعلیم کے افسران بارہ سالوں سے دربدر ہیں اور مختلف اسکولوں میں عارضی آفس قائم کرکے کام چلارہے ہیں۔تعلقہ ناظم کی جانب سے نادرا کو عارضی آفس مہیاکرنے کے بعد بارہ سالوں کے دوران بھی نادرا اپناعلیحدہ آفس کا انتظام نہ کرسکا لیکن اب انہوں نے اسکول کی مزید ایراضی پر بھی قبضہ کرلیاہے اور مستقل آفس قائم کرلیاہے، اسکول کے گرائونڈ پر وسیع ایراضی پر چاردیواری قائم کرکے اسکول کی مین چاردیواری کو توڑ کر روڈ کی طرف گیٹ ڈال دیاہے جبکہ زیرقبضہ ایراضی پر مزید تعمیرات کرالی ہیں۔

(جاری ہے)

اور اس کی محکمہ تعلیم یا کسی ادارے سے کوئی پرمیشن تک نہیں لی ہے،اس طرح تاریخی اسکول میں زیرتعلیم بچوں کے لئے شدید دشواریوں کا سامان پیدا کردیاہے، اسکول کے جاری مرمتی کام کے دوران بچوں اور فرنیچرکو گرائونڈ میں منتقل کرکے تعلیم دی جارہی ہے جہاں پر جگہ کی تنگی ہیاور بچوں کو دشواری کا سامنہ ہے ،وفاقی ادارے کے ماتحت کام کرنے والا نادرا مکمل طورپر ایک نجی ادارے کی طرح کام کرتاہے جہاں پر ہرکام کی فیس لی جاتی ہے اور اس کو کلائنٹ کو سہولیات مہیاکرناہوتی ہیں، تاہم اس کے باوجود اپنے علیحدہ آفس کے قائم کرنے میں ناکام ہے، اور محکمہ تعلیم سندہ کی ایراضی پر قبضہ کرکے مقامی تعلیم تباہ کرنے کا مرتکب ہورہاہے، سجاول میں محکمہ تعلیم سندہ کے ایس ڈی ای او آفس کی عمارت پر نادرا کے قبضے کے بعد تعلیمی افسران دربدر ہیں اور بارہ سالوں سے مختلف اسکولوں، گرلزکالیج،اردو اسکول، ہائی اسکول اور دیگرجگہوں پر عارضی آفس قائم کرنے کے بعد اب ہائی اسکول کی کلاسوں میں کام چلارہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کے افسران کی جانب سے اس ضمن میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیاگیاہے لیکن کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے، سندہ حکومت کی جانب سے تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے باوجودسجاول میں محکمہ تعلیم کی عمارت اور اسکول کے گرائونڈ سے وفاقی ادارے نادرا کا قبضہ ختم کرانے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ہے، دوسری جانب سجاول کے تاریخی پرائمری اسکول کی عمارت اور ایراضی پر نادراکے قبضے پر شہریوں نے رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ مکمل طورپرپرائیویٹ ادارے کی طرح کام کرنے والے ادارے نادرا کو تعلیم تباہ کرنے کے بجائے اپنے آفس کے لئے علیحدہ انتظام کرناچاہئے۔تعلیمی املاک پر کسی کو بھی قبضے کی اجاازت نہیں ہونی چاہئے۔

Your Thoughts and Comments