آئندہ مالی سال کا فنانس بل ایوان میں پیش ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا

مختلف شعبوں کو ٹیکسز میں رعایتیں ،انٹر ٹینمنٹ سروسز پر ٹیکس ریٹ صفر،موبائل والٹس اور کیو آر سکریننگ کے ذریعے ریسٹورنٹس کے بل ادا کرنے والوں سے سیلز ٹیکس 5فیصد وصول کیا جائے گا ایسے افراد جو گزشتہ سال انکم ٹیکس زمرے میں آتے تھے ان پر سالانہ 200روپے کا پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2021ء)پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کا فنانس بل ایوان میں پیش کر دیا ، حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ مختلف شعبوں کو ٹیکسز میں رعایتیں دی گئی ہیں ،انٹر ٹینمنٹ سروسز پر ٹیکس ریٹ صفرکر دیا گیا،سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ایسے افراد جو حکومت پنجاب کے مقرر کردہ سیلز ٹیکس ریٹ سے زائد سیلز ٹیکس ریٹ کسٹمر ز سے وصول کریں گے ان پر انوائس کی کل قیمت کا 10فیصد یا فی انوائس 10ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،اسی طرح تجویز دی گئی ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے علاوہ موبائل والٹس اور کیو آر سکریننگ کے ذریعے ریسٹورنٹس کے بل ادا کرنے والوں سے سیلز ٹیکس 5فیصد وصول کیا جائے گا ۔

آئندہ مالی سال 2021-22کے فنانس بل میں پنجاب حکومت نے پروفیشنل ٹیکس کے تحت میٹر پولیٹن اور میونسپل کارپوریشن کی حدود میں 10یا 10سے زیادہ افراد پر مشتمل کاروباری کمپنیوں پرسالانہ 6ہزار روپے ، دیگر 10افراد سے کم والی کمپنیوں پر سالانہ 4ہزار روپے ، ہول سیلرز اورریٹیلرز کے علاوہ دیگر کاروباروں پر سالانہ 2ہزار روپے اور ایسے افراد جو گزشتہ سال انکم ٹیکس زمرے میں آتے تھے ان پر سالانہ 200روپے کا پروفیشنل ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ سیلزٹیکس کے تحت حکومت نے ریلیف دینے کیلئے انٹر ٹینمنٹ سروسز پر ٹیکس ریٹ صفر کردیاہے ان سروسز میں سینما ، تھیٹرز ،کنسرٹس، سرکس ، سپورٹس ایونٹس ، ریسز ، فلم ، فیشن شو زاور موبائل اسٹیج شوز شامل ہیں جبکہ انٹر سٹی سروس کو دی جانے والی نان ٹیکس استثنیٰ ختم کردی گئی ، اسی طرح پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں بیوٹی پارلرز ، فیشن ڈیزائنرز ، آرکیٹکٹس ، لانڈریز اینڈ ڈرائی کلنیرز ، سپلائی آف مشینری ، ویئرہائوس سروسز ، ڈریس ڈیزائنرز اوررینٹل آف بلڈوزرزپر سیلز ٹیکس 16فیصد سے کم کر کے 5فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ۔

(جاری ہے)

فنانس بل انشورنس ایجنٹس اور انشورنس بروکرز پر بھی سیلز ٹیکس 5فیصد عائدکرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ فنانس بل کے مطابق صوبے میں کاروباری آسانیوں کیلئے آئندہ فنانس بل میں پنجاب انفارسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے حوالے سے تجویز ہے کہ جن اشیاء پر وفاقی حکومت ٹیکس استثنیٰ دے گی انہی اشیاء پر پنجاب حکومت بھی ٹیکس استثنیٰ دے گی ۔ آئندہ فنانس بل میں کالنگ سنٹرز پر عائد 19.5فیصد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 16فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

آئندہ مالی سال کے لئے فنانس بل میں سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ایسے افراد جو حکومت پنجاب کے مقرر کردہ سیلز ٹیکس ریٹ سے زائد سیلز ٹیکس ریٹ کسٹمر ز سے وصول کریں گے ان پر انوائس کی کل قیمت کا 10فیصد یا فی انوائس 10ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔فنانس بل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے علاوہ موبائل والٹس اور کیو آر سکریننگ کے ذریعے ریسٹورنٹس کے بل ادا کرنے والوں سے سیلز ٹیکس 5فیصد وصول کیا جائے گا ۔

آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں زیادہ سے زیادہ سہولتیں اورریلیف دیاگیا ہے کہ لیکن اگر کسی بھی کاروبار میں ان سہولتوں کو غلط استعمال کیاگیا تو ٹیکس سہولتیں کرکے اس شخص پر جنرل سیلز ٹیکس 16 فیصد دوبارہ عائد کردیا جائے گا آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں اربن اموویبل پراپرٹی ٹیکس اداکرنے والوں کو ای پیمنٹ کے ذریعے ادائیگی پر 5فیصد رعائت دینے کی تجویز دی ہے اس کے علاوہ ان کو پراپرٹی ٹیکس 2اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ جو لوگ ای پیمنٹ کے علاوہ پہلے کوارٹر میں پراپرٹی ٹیکس جمع کروائیں گے ان کو 5فیصد رعائت دینے کی تجویز ہے جو دوسرے کوارٹر میں پراپرٹی ٹیکس جمع کروائیں گے وہ پانچ فیصد کی رعایت کے بغیر پراپرٹی ٹیکس جمع کراسکیں گے جبکہ تیسر ے اورچوتھے کوارٹر میں جو لوگ ٹیکس جمع کروائیں گے ان کے بارے میں پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی کہ فی ماہ یا پورے ٹیکس پر کتنا جرمانہ عائد کرنا ہے ۔

اسی طرح پنجاب کے آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں پنجاب موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پرانے موٹر وہیکلز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے ان کو دی جا نے والی ٹیکس رعائتیں ختم کردی جائیں اور یہی رعائیتں الیکٹرک وہیکلز کو دی جائیں تاکہ الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ ملے ۔آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں ٹوکن ٹیکس کی ای پیمنٹ کے ذریعے ادا کرنے والوں کو پانچ فیصد رعایت دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ای پیمنٹ کے علاوہ ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والوں کو پہلے کوارٹر میں پانچ فیصد رعائت دینے کی تجویز ہے ، دوسرے کوارٹر میں ٹوکن ٹیکس جمع کروانے والوں کو پانچ فیصد رعائت نہیں ملے گی جبکہ تیسر ے اورچوتھے کوارٹر میں جو لوگ ٹیکس جمع کروائیں گے ان کے بارے میں پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی کہ فی ماہ یا پورے ٹیکس پر کتنا جرمانہ عائد کرنا ہے ۔

Your Thoughts and Comments