پارلیمانی روایات کے برعکس اپوزیشن لیڈر بجٹ پر بحث کا آغاز نہ کرسکے

وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج کا بدلہ حکومتی ارکان نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں شور شرابے سے لے لیا سپیکر نے موجودہ صورت میں اجلاس نہ چلانے کا کہہ 20 منٹ کیلئے عارضی معطل کیا مگر 3 گھنٹے سے زائد التوا کے بعد منگل تک ملتوی کردیا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 جون2021ء) پارلیمانی روایات کے برعکس اپوزیشن لیڈر بجٹ پر بحث کا آغاز نہ کرسکے، وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج کا بدلہ حکومتی ارکان نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر میں شور شرابے سے لے لیا، سپیکر نے موجودہ صورت میں اجلاس نہ چلانے کا کہہ 20 منٹ کیلئے عارضی معطل کیا مگر 3 گھنٹے سے زائد التوا کے بعد منگل تک ملتوی کردیا، سپیکر چیمبر میں ان کیمرہ مذاکرات میں بھی حکومت و اپوزیشن میں گرما گرمی ہوئی ۔

(جاری ہے)

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت دو روز کے وقفے کے بعد شروع ہوا تو بجٹ پر بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر نے کیاالبتہ حکومتی ارکان نے وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے احتجاج کا بدلہ شور شرابے سے چکایا اور پارلیمانی روایات میں پہلی بار بجٹ بحث آغاز حکومتی رویے کے باعث نہ ہوسکا،شور کے دوران خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف بولے اچھے بجٹ کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں نے عام آدمی کو غربت اور مفلسی میں جھلسا دیا ہے،تقریر کے دوران شور بڑھا اور حکومتی ارکان کے نعروں کی گونج بڑھی تو جوابا تو سپیکر بولے ایسے انداز میں اجلاس نہیں چل سکتا، سپیکر نے پارلیمانی لیڈرز کو اپنے چیمبر میں بلاتے ہوئے اجلاس 20 منٹ کیلئے عارضی معطل کردیا ،اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد بھی حکومت و اپوزیشن ارکان میں نعرے بازی کا مقابلہ رہا، اپوزیشن ارکان ڈونکی راجا اور حکومتی ارکان چور چور کے نعرے لگاتے رہے ،سپیکر چیمبر میں ہونے والے پارلیمانی لیڈرز اجلاس میں بھی گرما گرمی اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہا البتہ طے پایا کہ اس معاملے پر حکومتی ارکان وزیراعظم اور اپوزیشن ارکان قائد حزب اختلاف سے بات کریں گے، بعد ازاں اپوزیشن کے اصرار کے باوجود سپیکر نے اجلاس منگل کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا

Your Thoughts and Comments