جماعت اسلامی ملک میں نظام کو تبدیل ،عوام کو حقوق دلااور اسلام نظام نافذ کرسکتی ہے ،مولانا عبدالحق ہاشمی

بدعنوانی، موروثیت،فرقہ واریت ،لسانیت سے پاک صرف جماعت اسلامی ہے،امیر جماعت اسلامی بلوچستان

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2021ء)ا میر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی،جماعت اسلامی پاکستان شعبہ علماء ومشائخ کے ناظم وسجادہ نشین درگاہ فریدیہ کوٹ مٹھن خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں نظام کو تبدیل ،عوام کو حقوق دلااور اسلام نظام نافذ کرسکتی ہے ۔بدعنوانی، موروثیت،فرقہ واریت ،لسانیت سے پاک صرف جماعت اسلامی ہے جس کے قائدین کاکردار،مختلف مواقع پر منتخب ہونے والے افراد کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔

یکجہتی اتحاد ترقی وخوشحالی اور مسائل کے حل کیلئے عوام کو جماعت اسلامی کا ساتھ دیناہوگا ۔لادینی قوتوں کی ملک دشمن سازشوں کے خلاف علماء مشائخ کو تحریک پاکستان کے جذبے کے تحت مقابلہ کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

حکومت کی معاشی، سیاسی، سماجی، داخلہ و خارجہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ عوام کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں جن کے تحفظ کے لیے عوام کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے دورہ کوئٹہ کے دوران صوبائی سیکرٹریٹ میں امیر صوبہ کی جانب سے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی وضلعی قائدین بھی موجودتھے انہوں نے کہاکہ فلسطین ،کشمیر ،افغانستان ،شام سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں پر طاغوتی طاقتیں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں ان کی نجات اور آزادی صرف اور صرف مسلم امہ کے اتحاد میں مضمر ہے - جماعت اسلامی دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی آواز اٹھاتی رہے گی اور دکھ کی ہر گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہی- دنیا میں امن و آشتی کے قیام اور غربت اور بھوک کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ انسانیت دین فطرت کو اپنائے ۔

دین فطرت صرف اور صرف اسلام ہے اور اسلام کا نظام اپنانے میں ہی انسانیت کی بھلائی ہے ۔جماعت اسلامی اسلامی نظام کے قیام کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں تمام ماڈرن ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود لوگوں کو سکون اطمینان اور ذہنی خوشحالی میسر نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تر مادی ترقی کے باوجود ان مغربی ممالک میں جو نظام قائم ہیں وہ انسانوں کے تشکیل کردہ ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کائنات کو کائناتی نظام دیا جائے ۔ پاکستان کو پٹڑی پر ڈالنے کے لیے صرف اور صرف قرآن و سنت کا نظام درکار ہے ۔ حکومت یکساں تعلیمی نصاب کے نام پر اسلامی اقدار وروایات میں تبدیلی سے باز رہے ،ملک میں اس وقت اصل کشمکش مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان ہے ،بد قسمتی سے حکمران طبقوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں مغربی ایجنڈے اور تہذیب کو پروان چڑھانے اور اسلامی اقدار کو مٹانے کی ناکام کوشش کی ہے ،تمام مسالک و مکاتب فکر کے باہمی اختلافات سے مغربی آلہ کاروں کو تقویت پہنچی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی اقدار و روایات کی حفاظت کے لیے تمام مسالک سے وابستہ افراد متحد و متفق ہوکر جدوجہد کریں مساجد و مدارس ملک کے نظریاتی تشخص اور سلامتی کے محافظ ہیں، ان کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،یکساں نظامِ تعلیم کے نام پر اسلامی تعلیم ، نظریاتی تشخص اور تہذیبی اقدار کو نصاب سے نکال کر نوجوان نسل کو اپنے مذہب اور تاریخ سے دور کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے موجودہ حکومت نے دینی مدارس و مساجد کو ٹارگٹ بنایا ہے اور اس کے لیے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ،یکساں تعلیمی نصاب کی آڑ میں مدارس کے اپنے نصاب کو ختم کر کے مغربی نصاب ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مکاتب فکر سے وابستہ افراد اسلامی اقدار وروایات کی حفاظت کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کریں ۔

یکساں نظام تعلیم کے نام پر دینی مدارس پرقد غن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، اسکولوں کے نصاب میں بھی اللہ کے رسول ؐ کے واقعات اور خلفائے راشدین کے واقعات حذف کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اسلامی اقدار وروایات کے حوالے سے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف آنا چاہییے ۔

Your Thoughts and Comments