اسموگ؛ لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، ایئر کوالٹی 292 ریکارڈ

ظفر علی روڈ انتہائی آلودہ ،گلبرگ مین بلیووارڈ قدرے بہتررہا، آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ ، شہری عینک پہنیں اور ماسک لگائیں،آنکھوں کو دھویں، بے جا گھروں سے نہ نکلیں، ڈاکٹرز کی ہدایت

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 نومبر2021ء) لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا جب کہ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 292ریکارڈ کیا گیا ہے۔دنیا کا آلودہ ترین شہر بن جانے کے باعث لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 292ریکارڈ کیا گیا ہے، ظفر علی روڈ کا علاقہ 446 اے کیو آئی کیساتھ انتہائی آلودہ قرار، ٹاؤن شپ میں آلودگی کی شرح 344 ریکارڈ ، جیل روڈ گلبرگ مین بلیووارڈ قدرے بہتر، آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کیخلاف کارروائی ہوگی جب کہ فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں میں جلن کی شکایت بڑھ گئیں ہیں۔

ڈاکٹرعبد الرؤف کا کہنا ہے کہ شہری عینک پہنیں اور ماسک لگائیں،آنکھوں کو دھویں، بے جا گھروں سے نہ نکلیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا کوئی امکان نہیں ہے، شہر کا موسم خشک رہے گا۔

(جاری ہے)

البتہ بیس اکتوبر کے بعد سرحد کے پہاڑی علاقوں میں بارش کا امکان ہے جبکہ اس ماہ کے ٓاخر میں پنجاب کے میدانی علاقوں بارش کے امکان ہے، بارش ہونے سے سموگ اور آلودگی کم ہوگی۔

کمشنر لاہور کیپٹن(ر) محمد عثمان کا کہنا ہے کہ محکمہ تحفظ ماحولیات کے ساتھ ملکر سموگ اور آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے پانچ کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں جو اپنا کام شروع کر رہی ہیں آلودگی پھیلانے والی گاڑیاں اور فیکڑیاں بند ہونگی۔ادھر فضائی آلودگی اورسموگ سے چرندپرندبھی متاثرہورہے ہیں، اسموگ کے مضراثرات سے مویشیوں اورجنگلی جانورمیں آنکھوں کی جلن اورسانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، پودوں کی پرورش بھی متاثرہورہی ہے، درجہ حرارت کم ہونے اورسردی بڑھنے سے فضائی آلودگی اورسموگ کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ماہرین کاکہنا ہے فضائی آلودگی اورسموگ میں جب درختوں کے پتوں پرگردوغبارجم جاتی ہے تو سورج سے روشنی جذب کرنے کاعمل رک جاتا ہے

Your Thoughts and Comments