ناصر شاہ اور مرتضی وہاب کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے وفد کی پی ایس پی چیئرمین مصطفی کمال اورانیس قائم خانی سے ملاقات

پیپلز پارٹی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہماری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا،عوامی مطالبہ پیپلز پارٹی مانے گی تو انکا ہی فائدہ ہوگا،مصطفی کمال

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جنوری2022ء)سندھ کی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب کی سربراہی میںپاکستان پیپلز پارٹی کے وفدنے پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہائوس کادورہ کیااورچیئرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال اورمرکزی صدر انیس قائم خانی سے سمیت دیگررہنمائوں سے ملاقات کی ۔

ملاقات میں پاک سرزمین پارٹی نے 2021 کے بلدیاتی کالے قانون کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ پیپلز پارٹی اور پی ایس پی کے وفود نے کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سید مصطفی کمال نے واضح کیا کہ ہم اختیارات اور وسائل وزیر اعلی ہائوس سے نکال کر سندھ کی گلی کوچوں میں لانا چاہتے ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی نے پیپلز پارٹی پر واضح کردیا کہ 30 جنوری کو ہونے والے احتجاجی پروگرام کا ہر صورت میں انعقاد ہوگا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صدر انیس قائم خانی، اشفاق منگی، سید حفیظ الدین، ارشد وہرہ، شبیر قائم خانی، حسان صابر، آسیہ اسحاق بھی موجود تھے ۔ ملاقات کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کو بلدیاتی قانون کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہماری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

اگر یہ عوامی مطالبہ پیپلز پارٹی مانے گی تو یہ انکا ہی فائدے مند ہے، ایک با اختیار بلدیاتی نظام کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ ہم صرف کراچی ہی نہیں پورے سندھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں، شہر کے ساتھ جاری زیادتیوں پر کبھی نہیں کہا کہ سندھی زیادتی کر رہے ہیں بلکہ ہمیشہ کہا کہ پیپلز پارٹی زیادتی کر رہی ہے، لسانی سیاست نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، آج لسانی بنیادوں پر نفرتیں بڑھ رہی ہیں، پاک سرزمین پارٹی نے امن و مان بحال کرنے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

کراچی سے کشمور تک عوام کو حق حکمرانی دینا ہوگا۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ٹنڈو الہیار میں جو بیہمانہ قتل ہوا اس کے بعد لسانی سیاست کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، پولیس نے زمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا اور خواتین پر تشدد انتہائی افسوناک ہے اور سب سے ذیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک لسانی جماعت کا سربراہ پولیس لاک اپ میں قاتل کو پھول پیش کررہا ہے، اس ایک تصویر سے صوبے میں لسانی فسادات پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خلیل الرحمن کے قتل کی شفاف تحقیقات کرکے طاقتور قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ مرحوم بھولو خانزادہ کے لواحقین سے رابطے میں ہیں اور امید کرتے ہیں انہیں انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ہم اس پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، نہ لسانی جذبات بھڑکا رہے ہیں، بہت سارے لوگوں کو موقع مل رہا ہے کہ لسانیت کی بنیاد پر اپنی سیاست چمکائیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے پیپلز پارٹی نے ہماری بات توجہ سے سنی ہے، کراچی سے کشمور تک نچلی سطح پر اختیارات دلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، اختیارات کے ارتکاز سے صوبے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ آج لسانیت کی بنیاد پر جمع ہونے کی چالیس سال قبل سے زیادہ وجوہات موجود ہیں۔ قبل ازیں پی ایس پی رہنماں نے ناصر شاہ اور مرتضی وہاب کو پی ایس پی دفتر آنے ہر خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبہ کسی افراتفری اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، احتجاج سب کا آئینی حق ہے مگر بات چیت سے مسئلوں کا حل نکالنا بھی جمہوریت کا حسن ہے انہوں نے کہا کہ سندھ بلدیاتی بل سمیت صوبے کی سیاسی صورت حال پر بات چیت ہوئی اور تمام مسائل کو مزاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔