ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی سمجھ سے بالاتر ہے، شوکت ترین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جنوری2022ء) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی سمجھ سے بالاتر ہے۔بدھ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ شکوت ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 4 مختلف قسم کے بحران کا سامنا کیا، پہلا مسئلہ حکومت سنبھالتے ہی 20 ارب کے کرنٹ اکاونٹ خسارے کا تھا، تقریباً 8 سے 9 ارب کی ادائیگیاں بھی کرنی تھیں، تقریباً 29 ارب روپے ادا کرنے تھے تاہم قومی خزانے میں 7.1 ارب ڈالر تھے، دوست ممالک سے مدد مانگنے کی کوشش کی لیکن اندازہ ہوا کے اس طرح کام نہیں چلے گا لہٰذا ہم آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں کرپشن اور رول آف لا کی نشاندہی کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سب کے سامنے ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تین برسوں میں کتنی کرپشن کرلی، کتنے ارب کا بزنس کرلیا، اور کتنی فیصد ان کی نان ٹیکس انکم بڑھی ہے، اس کا موازنہ پچھلے 10 برسوں سے کریں تو سب واضح ہوجائے گا۔انہوں نے کہا وزیراعظم نے جب بھی کوئی اسکینڈل پیدا ہوتے دیکھا تو انہوں نے اس کی آزادانہ تحقیقات کروائی اور اپنے ہی لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا بھی کیا۔

انہوںنے کہاکہ قانون کی بالادستی کی بات کریں تو وزیر اعظم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے علیحدہ قانون ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود سمجھ نہیں آتی کے 3 برسوں میں ٹراسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کی تنزلی کیوں ہوئی جب تفصیلات آئیں گی تو ہم اس پر بات کریں گے۔