آئی اے ٹی اے کا دنیا کی حکومتوں سے مکمل ویکسین شدہ مسافروں کیلئے سفری پابندیوں سے استثنیٰ کا مطالبہ

کووڈ-19 کے باعث دنیا بھر میں سفری صنعت اور سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، رپورٹ مسافروں کے ٹیسٹوں پر خرچ کیے جانے والے اربوں روپے اگر ویکسین تقسیم کرنے کے لیے یا صحت کا نظام کا بہتر کرنے کے لیے مختص کیے جائیں تو وہ زیادہ مؤثر ہوگا، اعلامیہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جنوری2022ء)انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن(آئی اے ٹی ای) نے پوری دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا کے دوران حاصل ہونے والے 2 سالہ تجربے کو استعمال کرتے ہوئے سفری پابندیوں کا خاتمہ کریں کیونکہ یہ پابندیاں مسائل کا باعث ہیں۔آئی اے ٹی اے کی ڈائریکٹر جنرل ولی والش نے عالمی سفر کا انتظام کرنے کے لیے منفرد اور انوکھے حل کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے ایک بیان میں حکومتوں سے کہا کہ وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے منظور شدہ ویکسین سے مکمل ویکسین شدہ مسافروں کے لیے سفری پابندیوں میں نرمی کریں کیونکہ کووڈ- 19 اب وبا سے ایک مقامی بیماری بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ولی والش نے کہا کہ اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ مکمل ویکسین شدہ افرا کے لیے قرنطینہ اور ٹیسٹنگ سمیت تمام سفری پابندیاں ختم کی جائیں، اومیکرون ویرینٹ کے تجربے کے ساتھ، ایسا کوئی سائنسی ثبوت اور نظریہ نہیں ہے جو کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفری پابندیاں عائد کرتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا، آج اومیکرون پوری دنیا میں موجود ہے، اسی وجہ سے سفر عام لوگوں کے لیے خطرے میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں کرتا۔

آئی اے ٹی اے چیف نے کہا کہ مسافروں کے ٹیسٹوں پر خرچ کیے جانے والے اربوں روپے اگر ویکسین تقسیم کرنے کے لیے یا صحت کا نظام کا بہتر کرنے کے لیے مختص کیے جائیں تو وہ زیادہ مؤثر ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ کووڈ-19 'پینڈیمک سے اینڈیمک' بیماری بنتی جارہا ہے، جس کے خلاف اب ہمارے پاس مختلف تدابیر موجود ہیں، جن میں ویکسین اور علاج معالجہ شامل ہے، جس سے آبادی کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ولی والش نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومتیں اور سفری انڈسٹری تبدیلی کے لیے اور سفر میں رکاوٹیں ڈالنے والے اقدامات کے بوجھ کو دور کرنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ درحقیقت مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق نے دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ سفری اقدامات کو شمار کیا ہے جو مسافروں، ایئر لائنز اور حکومتوں کے لیے انتظام کرنے میں پیچیدگی پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ کورونا ایک مقامی بیماری بن رہا ہے ایسے میں سفر کو آسان بنانے کے لیے تمام ممالک کے پاس اب تقریبا 2 سالوں کا تجربہ ہے۔ولی والش کا کہنا تھا کہ اس معمول کو تسلیم کرنا چاہیے کہ مسافروں کو عام آبادی کے مقابلے میں کوئی زیادہ خطرہ پیش نہیں آئے گا اور اسی وجہ سے مسافروں کو عام کمیونٹی پر لاگو پابندیوں سے بڑی پابندی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

آئی اے ٹی اے نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسینیشن سے متعلق باہمی طور پر تسلیم شدہ پالیسیاں اہم ہوں گی کیونکہ دنیا مقامی بیماری کے مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ رکاوٹ فری سفر ویکسینیشن کے لیے ایک مؤثر ترغیب ہے، اس ترغیب کی پائیداری کو ویکسین کی پالیسیوں سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے جو سفر کو پیچیدہ بناتی ہیں یا ویکسین کے وسائل کو وہاں سے ہٹاتی ہیں جہاں سے وہ سب سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کووڈ-19 کے باعث دنیا بھر میں سفری صنعت اور سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، کورونا کے باعث دنیا کو ایک غیر روایتی صحت اور معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے سفری صنعت اور سیاحت کے شعبے کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرنے والا یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ نوکریوں سے محروم ہوئے۔