غذائی پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی منصوبہ جات کا کمرشل پیمانے پرعملدرآمد بہت ضروری ہے،سید فخر امام

پیداواری اہداف کے حصول کے لئے زرعی سائنسدانوں کو قومی پیداوار میں اضافے اور بہتر آؤٹ پٹ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا ہو گا، وفاقی وزیر

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جنوری2022ء)وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کہا ہے کہ زرعی منصوبہ جات کا کمرشل پیمانے پرعملدرآمد بہت ضروری ہے تاکہ غذائی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو سکے۔انہوں نے یہاں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں سائنسدانوں کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیداواری اہداف کے حصول کے لئے زرعی سائنسدانوں کو قومی پیداوار میں اضافے اور بہتر آؤٹ پٹ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق کے ثمرا ت کاشتکاروں تک پہنچنا بہت ضروری ہیں تاکہ زرعی فصلوں کی پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔اس موقع پر وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر اختر نے بتایا کہ پاکستان دنیا میں گنے کی پیداوار کے اعتبار سے چوتھا،کپاس کی پیداوار میں 5 واں،آم اور امرود کی پیداوار میں چھٹا،گندم کی پیداوار میں 7 واں جبکہ چاول کی پیداوار میں 10 واں بڑا ملک ہے۔

(جاری ہے)

ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ نے قیام سے لیکر اب تک659 مختلف فصلات کی اقسام کو عام کاشت کے لئے متعارف کروایا ہے جس میں گندم کی90،کپاس کی58،دالوں کی32 اور گنے کی28 سے زائد اقسام بھی شامل ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ ریسرچ کے علاوہ ادارہ ہذٰا کی15 سے زائد آئی ایس او سرٹیفائیڈ لیبارٹریوں میں پیسٹی سائیڈز اور کھادوں کے سیمپلز بھی چیک کئے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے استفسارپر انھوں نے بتایا کہ لائے گئے نمونہ جات میں 3 فیصد پیسٹی سائیڈز اور3 فیصد کھادوں کے نمونہ جات جعلی پائے گئے ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کہا کہ اٴْن کے آج کے دورہ کا مقصد ریسرچ کے معیار کو جانچنا تھا اور ا ب تک ادارہ ہذا کے سائنسدان اپنی کارکردگی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ وفاقی سطح پر ان اداروں کے تعاون سے پانچ بڑی فصلات بشمول گندم، کپاس، مکئی، گنا اور چاول کی پیداوار میں اضافہ کے لئے ایک جامع پالیسی ترتیب دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں رقبہ کے اعتبار سے گندم کی فصل 37 فیصد ایریا پر کاشت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کے بعد دوسری اہم فصل کپاس ہے جس کی پیداوار میں کئی برس بعد بہتری آئی ہے اوروزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آٹھ سال بعد کپاس کے کاشتکاروں کو5 ہزار روپے فی من کے حساب سے قیمت دی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں کاشتکاروں کی خوشحالی اور زرعی ترقی سرِ فہرست ہے۔

اسلئے ریسرچ کے اداروں کے تجربہ کار سائنسدانوں کی مشاورت سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ (پارب) ڈاکٹر عابد محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن ڈاکٹر آصف علی سمیت زرعی سائنسدانوں اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر نے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جنیٹک انجینئرنگ (نبجی) اور نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) کا بھی دورہ کیاجہاں ڈائریکٹر نبجی ڈاکٹر شاہد مقصود اور ڈائریکٹر نیاب ڈاکٹر طارق شاہ نے انہیں اپنے اپنے اداروں کی کارکردگی کے متعلق بریفنگ دی اور انہیں ان اداروں اور وہاں کے سائنسدانوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سید فخر امام کو ان اداروں کی اعزازی شیلڈیں بھی پیش کی گئیں جبکہ انہوں نے وہاں وزٹر بک میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔