پیدائش کے بعد سے مردہ سمجھی جانے والی بیٹی 36 سال بعد اپنی ماں سے آ ملی

پیدائش کے بعد سے مردہ سمجھی جانے والی بیٹی 36 سال بعد اپنی ماں سے آ ملی

پیر اپریل 11:22 pm

36 سال قبل  ہیڈی کو بتایا گیا تھا کہ اس نے جس بیٹی کو جنم دیا ہے،  وہ بہت بیمار ہے، جس کی وجہ سے اسے بیٹی سے الگ رکھا جا رہا ہے۔ چند ہفتوں بعد ہیڈی کی ماں نے بتایا کہ اس کی بیٹی وفات پا گئی ہے۔تاہم اب 36سال بعد ہیڈی اور اس کی بیٹی ایک دوسرے سے مل گئے ہیں۔
1981میں لائپزش، جرمنی کے ایک ہسپتال میں  ہیڈی نامی کم عمر لڑکی نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔

اس کی کم عمری کے باعث جب اس کی بیٹی کو اس سے دور لے جایا گیا تو وہ کچھ نہ کر سکی۔ چند ہفتوں بعد اسے اپنی بیٹی وفات کی اطلاع مل گئی۔ واقعات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہیڈی کی بیٹی  کو بچے اغوا کرنے والے گروہ نے اغوا کیا تھا۔ ان دنوں بچوں کے اغوا کے  واقعات عام تھے۔ان دنوں اغوا ہونے والے بہت سے بچے آج تک اپنے والدین  سے نہیں مل پائے۔

(خبر جاری ہے)


نومبر 2017 میں ہیڈی کو معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی ماریہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ 3سالوں سے اپنی ماں کو تلاش

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

کر رہی ہے۔ ایک سرکاری محکمے کی طرف سے ہیڈی سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی بیٹی سے ملنا چاہتی ہے یا نہیں۔
ہیڈی کے لیے تو یہی خبر بہت بڑی تھی کہ اس کی بیٹی زندہ ہے اور اسے  ملنا چاہتی ہے۔ ہیڈی نے ماریہ کو دیکھا تو فوراً ہی اس کے ناخن  دیکھے ۔ ہیڈی کے خاندان میں سب کے ناخن مڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ماریہ کے ناخن بھی ایسے ہی تھے۔ماریہ نے ہیڈی کو بتایا کہ اسے ایک خاندان نے یتیم سمجھ کر گود لے لیا تھا۔

مزید خبریں