یہ جاموگا کی بدروح کونسی بلاہے؟

یہ جاموگا کی بدروح کونسی بلاہے؟

پیر مئی 7:05 pm

رائے بریلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18مئی۔2015ء)بھارت میں اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں ایک عورت نے اپنی 7 سالہ بیٹی کی انگلی کاٹ دی۔عورت کا خیال تھا کہ اس کی بیٹی پر پیدائش کے وقت سے ہی ایک بُری روح جاموگا عفریت کا قبضہ ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ بچے کے جسم کی رنگت میں تبدیلی، آواز بدل جانا، جبڑے کا سختی سے جکڑے جانا، ہاتھ اور پاؤں کا سن ہوجانا، دست لگنا اور سانس کے مسائل جاموگا کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جاموگاایک دفعہ جسم پر قبضہ کر لے تو موت یقینی ہو جاتی ہے۔اس بری روح سے جان چھڑانے کے لیے لوگ جلتے ہوئے تیل میں بچوں کی انگلیاں جلا دیتے ہیں، لوگوں کا کہنا

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

ہے کہ اگر انگلیاں جلنے پر بچہ روئے تو سمجھ لو کہ جاموگا چلا گیا۔

(خبر جاری ہے)

راما دیوی نام کی عورت نے دو ہفتے پہلے اپنے 5 ماہ کے بچے کی انگلیاں جلا دی اور کہا کہ یہ اس کی جان بچانے کے لیےہے۔

جاموگا کے قبضے کے حوالے سے سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج میڈیکل سائنس سے بہت اچھے سے ہو سکتاہے۔الٹی اور دست ڈائریا کی علامات ہوتے ہیں جبکہ سانس میں رکاؤٹ پھیپھڑے کی انفیکشن یا نمونیا کی علامت ہوتے ہیں۔ ایک عورت کا کہنا ہے کہ بچے میں جاموگا کی بدروح کے ہونے کا پتہ چلانے کا ایک اور آسان طریقہ بھی ہے۔ ایک بطخ کو بچے کے قریب لایا جاتا ہے۔اگر بطخ بچے کے قریب نہ جائے تو بچے کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔