ایٹمی طبعیات کا مقالہ لکھنے کےلیے ایک لفظ لکھنا کافی ہے باقی کام آٹو کریکٹ کر سکتا ..

ایٹمی طبعیات کا مقالہ لکھنے کےلیے ایک لفظ لکھنا کافی ہے باقی کام آٹو کریکٹ کر سکتا ہے ، کانفرنس میں پڑھنے کےلیے مقالہ منظور بھی ہوسکتا ہے

بدھ اکتوبر 11:50 pm

کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر نے ایٹمی طبعیات پر ایک مقالہ لکھا اور اسے سائنسی کانفرنس کے منتظمین کو بھیج دیا۔ اس مقالے کو لکھنے کے لیے اس نے پہلا لفظ اٹامک تو خود لکھا مگر اس کے بعد آٹو کریکٹ یا ایپلی کیشن کے تجویز کردہ الفاظ پر اندھا دھند ٹیپ کرتا رہا ۔

(خبر جاری ہے)

اس کے لکھے ہوئے مقالے کی تلخیص کا اگرچہ کوئی سر پیر نہیں تھا مگر حیرت انگیز طور پر صرف تین گھنٹے بعد ہی اسے سائنسی کانفرنس کی طرف سے ای میل آ گئی کہ اس کا مقالہ کانفرنس میں پڑھنے کےلیے

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

منظور کر لیاگیا ہے۔


یونیورسٹی آف کانٹربری کے پروفیسر کرسٹوف بارٹنک نے آئی او ایس کے آٹو کریکٹ فنکشن کو استعمال کرتے ہوئے انٹرنیشنل کانفرنس آن اٹامک اینڈ نیوکلیئر فزکس کو ایک مقالہ بھیجا جسے 3 گھنٹے بعد ہی منظور کر لیا گیا۔
پروفیسر کا کہناہے کہ اس نے یہ مقالہ Iris Pear کے نام سے بھیجا تھا اور یہ نام اس نے Siri Apple کےحروف کو آگے پیچھے کر کےبنایا تھا۔
ذیل کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ پروفیسر کرسٹوف نے کس طرح سے اس مقالے کو لکھا تھا۔