ایک بھائی نے اپنی ہی بہن کو 10سالوں سے جنگل میں پنجرے میں قید کیا ہے

ایک بھائی نے اپنی ہی بہن کو 10سالوں سے جنگل میں پنجرے میں قید کیا ہے

پیر جنوری 11:49 pm

اپنے گھر والوں کے سکون اور تحفظ کے لیے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن ایک چینی خاندان نے اپنی بیٹی کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی انتہا کر دی۔
42سالہ شیانگ سیمی کو اس کے اپنے ہی گھر والوں نے 10 سال سے پنجرے میں قید کر رکھا ہے۔ وہ جنگل میں ایک پنجرے نما جھونپڑے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں کھانے پینے کو بھی کچھ زیادہ دستیاب نہیں۔
جس جھونپٹری میں وہ رہتی ہے، اس میں کئی بار جنگلی جانور بھی گھس آتے ہیں، کئی بار کیڑوں اور سانپوں نے بھی اسے کاٹ لیا۔

جانوروں کے درمیان رہتے رہتے شیانگ بھی جانوروں کی طرح برتاؤ کرنے لگی ہے۔
کچھ عرصے سے ایک 18 سالہ لڑکی اور اس کی سہیلیاں شیانگ کے لیے کھانا اور گرم کپڑے لے آتی ہیں۔ اس لڑکی نے بتایا کہ موسم سرما تو خیریت سے گزرتا ہے مگر گرما میں شیانگ کی حالت کافی خراب ہوتی ہے۔

(خبر جاری ہے)



خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

/> شیانگ کے بھائی کا کہنا ہے کہ شادی میں ناکامی کے بعد شیانگ کی حالت خراب ہوگئی اور وہ لوگوں کو مارنے لگی۔

اس نے گھر کا بھی کافی نقصان کیا، غریب ہونے کی وجہ سے وہ اس کا علاج نہیں کرا سکتا تھا، اسی لیے اس نے گھر سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ایک جھونپڑی بنا کر اس میں شیانگ کو بند کر دیا۔
اس معاملے کے سامنے آنے پر مقامی حکومت شیانگ کے بھائی کو اس کے علاج کے لیے ماہانہ 200 یوان دے رہی ہے ۔
حالیہ دنوں میں چین کے غریب علاقوں میں ایسے بہت سے کیسز سامنے آئے جن میں اپنے ہی گھروالوں نے علاج کے پیسے نہ ہونے پر دماغی توازن کھوجانے والے رشتے داروں کو سالوں سے قید کر رکھا ہے۔
ستمبر میں صوبہ ہینان میں ایک کیس سامنے آیا تھا، جس میں ایک پاگل 8سالہ بچی کو 6 سال تک اس کے اپنے دادا دادی نے زنجیروں سے باندھے رکھا۔