نایا ب بیماری کی وجہ سے 18 سالہ طالب علم 80سال کا بوڑھا نظر آنے لگا

نایا ب بیماری کی وجہ سے 18 سالہ طالب علم 80سال کا بوڑھا نظر آنے لگا

شاؤ سوئی کو پہلی بار دیکھنے کے بعد  قسم اٹھائی جا سکتی ہے کہ ہ وہ کم از کم 80 سال کے ہیں۔ لیکن درحقیقت وہ صرف 18 سال کے ہیں اور ہائی سکول میں پڑھتے ہیں۔انہیں ایک بہت نایا ب بیماری لاحق ہے، جس سے ان کے چہرے کے مسل اور جلد  80سالہ بوڑھے شخص  کے جیسے ہو گئے ہیں۔
شاؤ سوئی ، ہربن (چین) کے ایک ٹاپ ہائی اسکول میں  سینئر طالب علم ہیں۔ لیکن جب آپ انہیں  دیکھیں گے تو وہ کسی طالبعلم کے بجائے پنشن لینے والے  طویل العمر بزرگ معلوم  ہونگے۔

یہ سب ان کی عجیب و غریب بیماری کی بدولت ہے جس نے ان کے چہرے کے مسلز اور جلد کو ڈھلکا دیا ہے۔
گزشتہ ماہ کے اختتام پر چین میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سوئی  نے بتایا کہ  اس بیماری کی ابتدائی علامات کا نوٹس انہوں نے مڈل اسکول میں تعلیم کے دوران لیا تھا۔

(جاری ہے)

اس وقت اُن کا چہرہ مرجھانا شروع ہو ا تھا۔ جلد ہی وہ اپنے ہم جماعتوں سے بڑی عمر کے نظر آنےلگے۔

ڈاکٹروں کو  ابھی تک سوئی کی بیماری کی وجوہات کا معلوم نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بیماری کو قبول کر لیا ہے۔
اس معاملے میں صرف ایک خوش نصیبی نے شاؤ سوئی کا ساتھ دیا کہ مکمل طور پر ظاہری حالت بدلنے کے باوجود اس پراسرار بیماری نے ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا۔ اس سلسلے میں ان کے دوستوں اور گھروالوں کا رویہ بھی اہم ہے جن کی وجہ سے انہیں یہ حقیقت قبول کرنی پڑی کہ زندگی صرف نوجوان نظر آنے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی۔

مختلف شعبوں میں ان کی مہارت کی بناء پر ان کے ساتھی انہیں "سپر مین" کہہ کر بلاتے ہیں۔18 سال کی عمر کا یہ جوان بوڑھا اپنے ہائی اسکول کا بہترین طالبعلم ہے۔ اساتذہ بھی ان کی قابلیت کے معترف ہیں کہ مشکلات کے باوجود وہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے نیز مستقبل میں وہ چین کی ٹاپ یونیورسٹی میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لوگ ان کی ظاہری حالت پر ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں جس سے کبھی کبھار وہ دکھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ ان حالات پر قابو پانے کا واحد حل یہی ہے کہ مثبت رہا جائے۔ یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ 

وقت اشاعت : 08/06/2018 - 23:44:29

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments