خون کا ایک سادہ ٹسٹ آپ کے جسمانی نظام کی گھڑی کا وقت بتا سکتا ہے

خون کا ایک سادہ ٹسٹ آپ کے جسمانی نظام کی گھڑی  کا وقت بتا سکتا ہے
کیا آپ نے کبھی ایسا محسوس کیا کہ اس وقت سات بجے ہیں جبکہ حقیقت میں وقت نو بجے ہوں؟
سوموار کونارتھ ویسٹرن  یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے بتایا کہ انہوں نے خون کا ایک ایسا سادہ سا ٹیسٹ تشکیل دیا ہے جس سے 1.5 گھنٹے میں ہی کسی شخص کی اندرونی گھڑی کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ اس ٹسٹ کو ٹائم سگنیچر کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں کسی بھی شخص کی  شخصیت کے مطابق اس کے  طبی علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

اس ٹسٹ سے دل کی بیماریوں سے لیکر ذیابیطیس اور الزائمر کا علاج ہو سکے گا۔ 
یہ تحقیق ایک امریکی جریدے پروسیڈنگ آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز(پی این اے ایس ) میں شائع ہوئی۔
نارتھ ویسٹرن  یونیورسٹی میں حیاتیاتی شماریات کی اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کی  مرکزی مصنف روزمیری براؤن نے بتایا
"یہ حیاتیاتی گھڑی ہر قسم کے حیاتیاتی کاموں کو منظم کرتی ہے مثلاً جب بھی آپ کو نیند آنے لگتی ہے،جب آپ کو بھوک محسوس ہوتی ہے، جب آپ کا مدافعتی نظام فعال ہوتا ہے، جب آپ کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، جب آپ کے جسم میں کوئی عارضی تبدیلی ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

"
تحقیق کے مطابق اس حیاتیاتی گھڑی کا  ٹھیک سے کام  نہ کرنا مختلف بیماریوں جیسے  الزائمر ، دل کی بیماریاں اور ذیابیطس وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔
ایک دوسری تحقیق کے مطابق کیموتھراپی یا بلڈ پریشر کی ادویات اگر مخصوص وقت پر لی جائیں تو  بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
حالیہ مطالعے کے لیے محققین نے 73 لوگوں سے خون کے 1100 نمونے لیے۔ یہ نمونے تقریباً ہر دو گھنٹے بعد لیے گئے اور  جینز کی سرگرمی کو ہر وقفے کے بعد چیک کیا گیا تاکہ دیکھا جائے یہ باقی دن میں کس طرح تبدیل ہوتی ہے۔
وقت اشاعت : 11/09/2018 - 23:56:54

Your Thoughts and Comments