کوبرا سانپ ایک دوسرے کو ہی کھاتے رہتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق

کوبرا سانپ ایک دوسرے کو ہی کھاتے رہتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق

سانپوں کے حوالے سے ہونے والی ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ سانپ ہماری سوچ سے زیادہ خوفناک ہیں۔
جنوبی افریقا کے کالاہاری صحرا میں کام کرنے والے کچھ محققین نے حال ہی میں اپنی نئی تحقیق شائع کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق بڑے نر کوبرا چھوٹے نر کوبرا کو کھا جاتے ہیں۔ محقیقن کا پہلے خیال تھا کہ اس طرح کے اکا دکا واقعات ہی ہوتے ہونگے لیکن اب پتا چلا ہے کہ کوبرا سانپوں کا اپنی ہی نسل کے سانپوں کو کھانا کافی عام ہے۔


تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دوسرے سانپ کوبرا کی خوراک کا 13 سے 43 فیصد ہوتے ہیں اور کھائے جانے والے سانپوں میں کوبرا ہی شامل ہوتے ہیں۔ ماہر حیوانات برائن ماریٹیز کے مطابق ”ہمیں پتا تھا کہ وہ سانپ کھاتے ہیں، جو ہم نہیں جانتے تھے وہ یہ کہ سانپ ان کی غذا کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

(جاری ہے)


تحقیق کے دوران برائن اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے منتخب کوبرا، جسے انہوں نے ہنی بال کا نام دیا تھا“ کو ریڈیو ٹرانسمیٹر کے ساتھ جنگل میں چھوڑ دیا۔

اس سے انہیں کوبرا کی  ”کوبرا خوری“ کے کافی ثبوت ملے۔
دنیا بھر میں کوبرا کی 30 انواع ہیں۔ اس تحقیق میں 6 انواع کے کوبرا شامل کیے گئے ۔ ان میں سے پانچ انواع کے کوبرا سانپوں کو اپنے ہی ساتھیوں کو کھاتے دیکھا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 11 سال پہلے کی جانے والی ایک تحقیق میں کیپ کوبرا کا اپنے ساتھیوں کو کھانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا لیکن موجودہ تحقیق میں پتا چلا کہ ”کوبرا خوری“ میں کیپ کوبرا بھی پیچھے نہیں۔

وقت اشاعت : 05/10/2018 - 23:53:03

Your Thoughts and Comments