عالمی رہنما ، جنہیں دنیا کو اپنے زندہ ہونے کا یقین دلانا پڑا

عالمی رہنما ، جنہیں دنیا کو اپنے زندہ ہونے کا یقین دلانا پڑا

اتوار کے دن نائجیریا کے صدر محمد بوہاری  نے اُن تمام افواہوں کی تردید کردی، جن کے مطابق وہ وفات پا چکے ہیں اور ایک سوڈانی ڈپلیکیٹ ان کی جگہ کام کر رہا ہے۔سوشل میڈیا پر کئی مہینوں سے محمد بوہاری کے بارے میں یہی اطلاع گردش کر رہی تھی کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور ان کی جگہ ان کا ڈپلیکٹ امور حکومت سر انجام دے رہا ہے۔
سوموار کو گیبون کے صدر علی بونگو  6 ہفتے کی علالت کے بعد عوام  کے سامنے آئے۔

ان کے بارے بھی افواہیں تھیں کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔
2015 میں روسی صدر علالت کے باعث 10 دن تک عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔ ا ن کی غیر حاضری  نے ان کی وفات کی افواہوں کو جنم دیا۔ ان افواہوں کی وجہ سے انہیں 10 دن بعد عوام کے سامنے آنا پڑا۔
2012 میں شمالی کوریا کا سپریم لیڈر بننے کے بعد کم جونگ-ان کے بیجنگ میں قتل ہونے کی افواہیں سامنے آئیں۔

(جاری ہے)

بی بی سی کے مطابق یہ خبر چینی مائیکروبلاگنگ سائٹ سینا ویبو سے پھیلی اور ٹوئٹر کے ذریعے ساری دنیا میں پھیل گئی۔کم جونگ-ان کے سامنے آنے کے بعد ان افواہوں نے بھی دم توڑ دیا۔
ملاوی کے صدر پیٹر موتاریکا  کے بارے میں بھی افواہیں سامنے آئیں تھی کہ وہ وفات پا چکے ہیں لیکن اکتوبر 2016 میں سب کے سامنے آ کر انہوں نےا ن افواہوںکا خاتمہ کیا۔
2016ء میں دوبئی سے واپسی پر زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کے بارے میں افواہیں پھیلی کی ان کا جہاز میں ہی انتقال ہو گیا ہے۔ جہاز سے اترنے پر وہ اس افواہ ہنسے اور کہا کہ وہ واقعی انتقال کر گئے اب دوبارہ زندہ ہوئے ہیں۔  وہ جب بھی اپنے ملک میں واپس آتے ہیں، وہ زندہ ہو جاتے ہیں۔

وقت اشاعت : 04/12/2018 - 23:45:29

Your Thoughts and Comments