ڈرونز کی مدد سے بلندوبالا عمارتوں میں لگی آگ سے لوگوں کو نکالنے کانیا تصور

ڈرونز کی مدد سے بلندوبالا عمارتوں میں لگی آگ سے لوگوں کو نکالنے کانیا ..

لوگوں کو بلند و بالا عمارتوں میں لگی آگ سے بچانے کے لیے  فائر فائٹرز کو اپنی جان جوکھم میں ڈالنی پڑتی ہے۔ تصوراتی  ڈیزائن  کے ایک نئے ڈرون سے بلند و بالا عمارتوں میں پھنسے لوگوں کو  اب زیادہ آسانی سے  بچایا جاسکتا ہے۔
نیٹ گارڈ نامی  مجوزہ ڈیزائن کے ڈرون  میں انسان سوار نہیں ہونگے۔منصوبے کے مطابق یہ ڈرون  عمارت سے آگ لگنے کے سگنل وصول کرے گا۔

اس کے بعد جی پی ایس کو استعمال کرتے ہوئے آگ کے مقام کا تعین کرے گا۔ اس کے بعد نیچے ٹریفک سے بچتے ہوئے سیدھا عمارت کے پاس پہنچے گا۔ جب یہ عمارت کے نزدیک پہنچے گا تو  یہ چار حصوں میں تقسیم ہو  جائے گا۔ یہ چاروں حصے ایک حفاظتی جال سے جڑے ہونگے۔ یہ جال پولی یوریتھین کی چار تہوں سے بنا ہوگا۔ یہ اتنا مضبوط ہوگا کہ ایک عام انسان کا وزن اٹھا سکے۔

(جاری ہے)


یہ ڈرون اپنے سنسر کی مدد سے عمارت سے نکلنے والوں کو بھی ٹریس کرےگا اور اس شخص کے عمارت سے چھلانگ لگانے سے پہلے ہی اس کے نیچے جال  تان دے گا۔
نیٹ گارڈ کو گوانگڈونگ پولی ٹیکنیک نارمل یونیورسٹی، سکول آف الیکٹرونکس انجینئرنگ اینڈ آرٹس چائنا کے 6 طلباء نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس ڈیزائن کو حال ہی میں گولڈن پن کانسپٹ ڈیزائن ایوارڈ ملا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن سکول اسائنمنٹ کے طور پر نہیں بنایا گیا۔ یہ ڈیزائن صرف ایوارڈ میں شمولیت کے لیے بنایا گیا تھا۔

ڈرونز کی مدد سے بلندوبالا عمارتوں میں لگی آگ سے لوگوں کو نکالنے کانیا ..
وقت اشاعت : 04/12/2018 - 23:47:56

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments