سکاٹش شہری نے حادثاتی طور پر خود کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ ساری زندگی امریکا میں داخل نہیں ہو سکے گا

سکاٹش شہری نے حادثاتی طور پر خود کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ ساری زندگی ..

70 سالہ سکاٹش شہری نے سردیوں کی چھٹیوں میں امریکا جانے کے لیے آن لائن ویزہ فارم میں خود کو حادثاتی طور پر دہشت گرد قرار دیا تو اس پر ساری زندگی کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی لگ گئی۔
جان سٹیونسن اور ان کی بیوی مارین کا تعلق اینورکلائیڈ، سکاٹ لینڈ سے ہے۔ اس ماہ دونوں اپنی سردیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے نیویارک جانے والے تھے لیکن جان نے ویزہ فارم میں غلطی سے خود کے دہشت گرد ہونے کے آپشن کو منتخب کر دیا۔

اس کے بعد نہ صرف جان پر ہمیشہ کے لیے امریکا جانے پر پابندی لگ گئی بلکہ دونوں کی فلائٹ کے ٹکٹ کی رقم اور پہلے سے ہی رہائش کے لیے جمع کرائی ہوئی رقم بھی ضبط ہوگئی۔
جان نے کئی بار سفارت خانے کے اہکاروں کو قائل کرنے کی کوشش کی یہ ایک غلطی تھی لیکن ان پر پابندی برقرار رہی۔

(جاری ہے)

یہ پابندی چونکہ ہمیشہ کے لیے تھی، اس لیے یہ جوڑا اپنے دورے کو آگے بھی نہ بڑھا سکا۔


جان کو اپنی غلطی کا اس وقت پتا چلا تھا کہ انہوں نے یو ایس بارڈر کنٹرول کو کال کر کے اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات بتانا چاہی لیکن انہیں جواب ملا کہ وہ دہشت گرد ہے۔
بدقسمتی سے جان اور ان کی بیوی کو اس غلطی کی وجہ سے پہلے سے خرچ کیے ہوئے 2000 پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ نہ ہی یونائیٹڈ ائیر لائنز نے ان کے ٹکٹ کے پیسے واپس کیے اور نہ ہی رہائش کے لیے جمع کرائی گئی رقم واپس ملی۔ جان پر سے امریکا میں داخلے کی پابندی ہٹنے کی واحد امید لندن میں موجود امریکی سفارت کار ہیں،جو سوال و جواب کے بعد اس پابندی کو ختم کر سکتے ہیں۔

سکاٹش شہری نے حادثاتی طور پر خود کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ ساری زندگی ..
وقت اشاعت : 06/12/2018 - 23:57:51

Your Thoughts and Comments