نئی کمپنی حاملہ خاتون کو بچےکی پیدائش کے لیے خلا میں لے جائے گی

نئی کمپنی حاملہ خاتون کو  بچےکی پیدائش کے لیے خلا میں لے جائے گی

نیدرلینڈ کی ایک کمپنی سپس لائف اوریجن  پہلے غیر ارضی بچے کی پیدائش  کے حوالے سے سائنسی تاریخ میں اپنا نام رقم کرنے  اور تحقیق کے لیے   حاملہ خاتون کو زمین سے 250 میل کی بلندی پر لے جانا چاہتی ہے ۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسانی بقا کے لیے ہمیں زمین کو چھوڑنا ہی ہوگا، ایسے میں ضروری ہے کہ پہلے زمین سے باہر خلا میں نئی زندگی کے شروع ہونے کے بارے میں معلوم ہو۔

  کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ حاملہ خاتون کو خلا میں بھیجے گی تاکہ صفر کشش ثقل پر بچے کی پیدائش ہوسکے۔
کمپنی کے ایک ایگزیکٹیو اجبرٹ اڈیلبرویک کا کہنا ہے کہ خلا میں بچے کی پیدائش کا علم انسانی نسل کی انشورنش پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم زمین سے دور کوئی قابل سکونت جگہ دریافت کر لیتے ہیں یا تعمیر کر لیتے ہیں تو بھی ہمیں اپنی بقا کے لیےخلا میں پیدائش کا علم ہونا چاہیے، اسی کے لیے سپیس لائف اوریجن اگلے پانچ سالوں تک کئی تجربات کرے گی۔

(جاری ہے)

کمپنی کا کہنا ہے کہ خلا میں اصل پیدائش 2024 میں کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حاملہ خواتین کو خلا میں لے جانے کا بندوبست ہو جائے تو یہ تجربہ انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے، سفری خطرات کے علاوہ اس میں ماں اور بچے دونوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
خلابازوں کا کہنا ہے کہ راکٹ کے مدار میں گردش کرتے ہوئےان پر تین گنا کشش ثقل اثر انداز ہوتی ہے، جس کا ماں اور بچے پر نہ جانے کیا اثر ہو۔


اگرچہ خلا میں انسانی بچے کی پیدائش کا اب تک کوئی تجربہ نہیں کیا جا سکا لیکن خلا میں چوہے، مچھلیاں، چھپکلیاں اور غیر فقاری جانوروں کی پیدائش کے تجربات ہو چکے ہیں۔
1990 کی دہائی میں امریکی خلائی شٹل مشن میں چوہے کے بچوں کی پیدائش کے بعد خلابازوں نے دیکھا بچوں میں توازن کی حس اور کان کا اندرونی ڈھانچہ، جو ممالیہ کو توازن برقرار رکھنے اور سیدھا رہنے میں مدد دیتا ہے، نامکمل تھے۔ چوہے کہ بچے کچھ دیر بعد ٹھیک ہو گئے تھے لیکن سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ انسانی بچے کی پیدائش کے لیے کشش ثقل بے حد ضروری ہے۔
سپیس لائف اوریجن کا ماننا ہے کہ ان کے منصوبے میں بہت سی چیزیں نامعلوم ہیں لیکن وہ انہیں نامعلوم چیزوں کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔

وقت اشاعت : 08/01/2019 - 23:51:31

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments