شادی کرنے کے لیے 18 سالہ لڑکی کی لاش قبر سے چرا لی گئی

شادی کرنے کے لیے 18 سالہ لڑکی کی لاش قبر سے چرا لی گئی

چین کے ایک قبرستان میں دفن نوجوان لڑکی کی لاش کو چرا لیا گیا ہے۔ شک ہے کہ یہ لاش  بھوت شادی کے لیے چرائی گئی ہے۔ بھوت شادی   ایسی شادی ہوتی  ہے جس میں ایک یا دونوں فریقین متوفی ہوں۔ چین میں اگر کوئی کنوارہ مرجائے تو اس کے گھر والے اس کی شادی کسی مردہ لڑکی سے کراتے ہیں تاکہ ان کی اخروی زندگی سکون سے گزرے۔یہ شادی لڑکے یا لڑکی کے شادی سے پہلےا چانک مرنے پر کی جاتی ہے۔


2015 میں بھوت شادی کے لیے چین کے صوبے   شنسی کے ایک گاؤں سے ریکارڈ 14 لڑکیوں کی لاشیں چرائی گئیں۔ اب شمالی چین کے ایک گاؤں کے خاندان کا خیال ہے کہ اُن کی 18 سالہ بیٹی کی لاش بھی بھوت شادی کے لیے چرائی گئی ہے۔
لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو دہائی پہلے لڑکی کی تدفین کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے تابوت میں کوئی قیمتی چیز بھی نہیں رکھی تھی۔

(جاری ہے)

کھدی ہوئی قبر کے پاس ایک دستانہ ملا ہے جو ممکنہ طور پر چور کا ہو سکتا ہے۔ اس دستانے کو پولیس نے ثبوت کے طور پر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
لڑکی کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ پہلے کچھ اجنبی ان کے گھر آئے تھے اور انہوں نے پیسوں کے عوض لاش بیچنے کی پیش کش کی تھی۔ تاہم گھر والوں نے لاش بیچنے سے انکار کر دیا تھا۔ مقامی حکام اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
چین میں اگست 2006 کو مردوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئ تھی۔  اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سال تک جیل ہو سکتی ہے۔

وقت اشاعت : 09/01/2019 - 23:26:09

Your Thoughts and Comments