فوڈ الرجی کا دعویٰ کرنے والے آدھے افراد کو یہ الرجی نہیں ہوتی۔ نئی تحقیق

فوڈ الرجی کا دعویٰ کرنے والے آدھے افراد کو   یہ الرجی نہیں ہوتی۔ نئی ..

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسے بالغ افراد جو سوچتے ہیں کہ انہیں فوڈ الرجی ہے، حقیقت میں ان میں سے آدھے کو  ایسی کوئی  الرجی  نہیں ہوتی۔
یہ تحقیق امریکا میں ہوئی ہے لیکن دنیا کے دوسرے ممالک، جیسے برطانیہ، میں بھی لوگ ایک سی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد سمجھتے ہیں، انہیں فوڈ الرجی ان کے ڈاکٹری نسخوں میں ایسی کوئی دوا نہیں ملی جبکہ بہت سے افراد غیر ضروری طور پر کھانوں سے پہلو تہی کرتے ہیں۔


اس تحقیق کے مطابق 11 فیصد یعنی 26 ملین بالغ امریکیوں  کو فوڈ الرجی ہے۔ ان میں سے 12 ملین لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں بالغ ہونے پر یہ الرجی ہوئی ہے یعنی فوڈ الرجی بچپن میں ہی شروع نہیں ہوتی۔
کھانے کی چیزوں سے متعلق الرجی کی یہ تحقیق امریکا میں دو گروپوں میں اکتوبر 2015 اورستمبر 2016 کے درمیان کی گئی۔

(جاری ہے)

اس تحقیق میں 40 ہزار بالغ افراد شریک ہوئے۔

تحقیق میں شرکا سے فوڈ الرجی کے بارے میں پوچھا جاتا اور پھر ان کے رد عمل اور تشخیص سے متعلق سوالات کیے جاتے۔ سوالات کے جوابات سے ہی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ تحقیق میں شامل شخص کو الرجی ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر اگر جواب ملتا ہے کھانے کے بعد گلا جکڑا جاتا ہے یا الٹیاں آتی ہے تو اسے الرجی سمجھا جا تا۔ لیکن اگر جواب ملتا کہ کھانے کے بعد پیٹ میں درد یا اپھارہ ہو جاتا ہے تو یہ الرجی کی نہیں بلکہ کھانے میں بے اعتدالی کی علامت سمجھی جاتی۔


نتائج سے پتا چلا کہ سب سے فوڈ الرجی کا باعث بننے والی خوراک  خول مچھلی ہے، جس سے 2.9 فیصد بالغ متاثر ہوئے۔ اس کے بعد دودھ سے 1.9 اور مونگ پھلی سے 1.8 فیصد افراد متاثر ہوئے۔
تحقیق میں شامل 10.8 فیصد شرکا کی علامات واقعی فوڈ الرجی لگتی تھی جبکہ 19 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اس قسم کی کوئی الرجی ہے۔
جن لوگوں کو فوڈ الرجی تھی ان میں سے آدھے افراد نے کہا کہ ان کی خوراک میں شامل کسی ایک چیز سے الرجی انہیں بالغ ہونے کے بعد ہوئی ہے، بچپن میں وہ یہ چیزیں کھاتے تھے۔

38 فیصد افراد نے کہا کہ الرجی کے باعث انہیں  ہنگامی طور پر  ہسپتال  جانا پڑا۔48 فیصد افراد  کے مطابق انہیں ڈاکٹروں نے الرجی کی تشخیص کی تھی۔  چوتھائی افراد نے کہا  کہ ان کے پاس ایک عام الرجی  ایڈرینا لین کے علاج  کا ڈاکٹری نسخہ ہے۔

وقت اشاعت : 09/01/2019 - 23:26:09

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments