چیتوں کے بارے چند دلچسپ حقائق

چیتوں کے بارے چند دلچسپ حقائق
چیتوں کے بارے میں سب کو ہی معلوم ہے کہ یہ انتہائی تیز رفتار،  خونخوار اور  خوفناک ہوتے ہیں۔ چیتا کا لفظ سنسکرت کے لفظ ”چترا“ سے  نکلا ہے، جس کا مطلب دھبے دار یا  نشان زدہ یا صاف کیا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم آپ کو چیتوں کے بارے میں چند دلچسپ باتیں بتا رہے ہیں، جو آپ  کو اس سے پہلے معلوم نہیں ہونگی۔
1.    پچھلے برفانی دور میں چیتوں کا تقریباً مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا تھا۔

جدید چیتے اپنے آباؤ اجداد کے ایک چھوٹے سےگروپ کے جانشین ہیں اور عملی طور پر ایک دوسرے کے کلون ہیں۔
2.    زمانہ قدیم میں مشرق وسطیٰ اور مصر کے لوگ چیتے کو پالتے تھے، انہیں شکار کرنا اور گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔
3.    مادہ چیتے کے ایک بار پیدا ہونے والے بچوں کے جھول (جو اکٹھے پیدا ہوئے ہوں) میں آدھے سے زیادہ بچے ایک سے زیادہ باپ کی اولاد ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

جنگل میں صرف 30 فیصد بچے ہی زندہ رہ پاتے ہیں جبکہ انسان کی دیکھ بھال میں بچنے والے بچوں کی تعداد 80 فیصد تک ہے۔
4.    بہت سی مادہ چیتوں نے زندگی پر ایک بچے کی پرورش کر کے اسے بڑا نہیں کیا ہوتا لیکن کچھ مادہ چیتے بہت اچھے طریقے سے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ جنوبی سرنگٹی میں ایک مادہ چیتے نے 10 فیصد بالغ چیتوں کی پرورش بھی کی ہے۔
5.      چیتے شیر کی طرح نہیں دھاڑ سکتے۔

وہ بلی کی طرح میاؤں کر سکتے ہیں، پرندوں کی طرح چہچہا سکتے ہیں، کتوں کی طرح بھونک سکتے ہیں اورسانپ کی طرح کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔
6.    کچھ چیتوں کے رنگ سفید، سرمئی، سرخی مائل، نیلگوں اور کریمی بھی ہوتے تھے۔
7.    چیتے ہر روز پانی نہیں پیتے۔ وہ تین یا چار دن بعد ایک دفعہ پانی پیتے ہیں۔
8.    چیتے صرف 3 سیکنڈ میں 0 سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ کئی سپر کاروں سے زیادہ ہے۔
9.    دوسرے جانوروں کی مسابقت سے بچنے کے لیے چیتے دن کے وقت شکار کرتے ہیں۔ جب وہ کسی جانور کا شکار کرتے ہیں،اُن کےجسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
10.    دوڑتے ہوئے چیتے کے پاؤں زمین پر کم وقت کے لیے لگتے ہیں جبکہ اس کا جسم ہوا میں زیادہ دیر کے لیے ہوتا ہے۔ دوڑتے ہوئے چیتا 21 فٹ کی چھلانگ بھی لگاتا ہے۔


11.    چیتے کافی سست ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وقت کا 88 فیصد بیٹھ کر گزارتے ہیں۔
12.    سارہ نامی ایک مادہ چیتے کے پاس دنیا کے تیز ترین جانور کا ریکارڈ ہے۔ سارہ نے 100 میٹر کا فاصلہ 5.95 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 61 میل فی گھنٹہ رہی۔
13.    چڑیا گھر میں رہنے والے چیتوں میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ وہ اکثر نروس اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

دنیا بھر کے چڑیا گھروں میں چیتوں کو کتے کے پِلوں کے ساتھ پالا جاتا ہے، جس سے چیتے زیادہ نروس نہیں ہوتے۔
14.    برونکس کے ایک چڑیا گھر میں چیتوں کو لبھانے کے لیے کلوین کلاین کا اوبیشن فار مین (Obsession for Men) پرفیوم استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پرفیوم دوسری خوشبوؤں کے مقابلے میں چیتوں کو زیادہ لبھاتا ہے۔
15.    اس وقت دنیا بھر کے جنگلوں میں 7100 چیتے ہیں۔ دنیا بھر 90 فیصد مقامات پر، جہاں پر کبھی چیتے تھے، اب نہیں ہیں۔
وقت اشاعت : 09/02/2019 - 23:54:29

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments