زمبابوے کے شکاری کو 5000 سےز یادہ ہاتھی قتل کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں

Ameen Akbar امین اکبر جمعہ اپریل 23:43

زمبابوے کے شکاری کو 5000 سےز یادہ ہاتھی قتل کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں
رون تھامپسن ، زمبابوے کے ریٹائر شکاری ہیں۔ اپنے 50 سالہ کیرئیر میں انہوں نے 5000 سے زیادہ ہاتھی، سینکڑوں بھینسیں اور دیگر بہت سے جانور   قتل کیے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کیے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے۔اُن کا دعویٰ ہے کہ اصل مسئلہ شکاری نہیں بلکہ تحفظ پسند ہیں۔
77 سالہ رون نے انگریزی اخبار دی انڈیپنڈنٹ  کو بتایا کہ  جانوروں کی آبادی اپنے علاقوں میں محدود ہونی چاہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد تحفظ پسندوں کے  دھوکے کے باوجود انہوں نے ہزاروں جانور شکار کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شکار مسئلہ نہیں اس لیے وہ شکار کرتے رہے اصل مسئلہ   مغرب کے وہ نام نہاد ماہرین ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے۔
رون نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر بتایا کہ  انہوں نے 5000 ہاتھی، 800 بھینسیں، 60 شیر،  50 دریائی گھوڑے، 40 چیتے اور دیگر بہت سے جانور قتل کیے ہیں۔

(جاری ہے)

اعداد و شمار سے  پتا لگتا ہے کہ رون کی زیادہ توجہ ہاتھی کے شکار پر تھی لیکن اُن کا دعویٰ ہے کہ  انہوں نے اتنے زیادہ ہاتھی شکار نہیں کیے، جس سے ان کی آبادی میں کمی آتی یا یہ ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے۔
رون نے بتایا کہ جو لوگ ہاتھی کی نسل کو خطرے سے دوچار بتاتے ہیں ، وہ جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے لوگ ہیں  اور پیسے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ جب ہاتھی کی آبادی اچھی ہو تو کوشش کرنی چاہیے کہ یہ زیادہ نہ بڑھیں۔
ہاتھی کے شکار کے باعث دنیا میں ہاتھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی  ہے۔1980 کی دہائی میں افریقی ہاتھیوں کی تعداد 13 لاکھ تھی جو اب 70 فیصد  کم ہو کر صرف 4 لاکھ رہ گئی ہے جبکہ اس وقت ایشیائی ہاتھیوں کی تعداد 35000 سے 40000 کے درمیان ہے۔
وقت اشاعت : 12/04/2019 - 23:43:38

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments