چینی خاکروب اپنی کمائی کا زیادہ حصہ غریب بچوں کے لیے عطیہ کر دیتا ہے

پیر اپریل 23:38

چینی خاکروب اپنی کمائی کا زیادہ حصہ غریب بچوں کے لیے عطیہ کر دیتا ہے
چین کی گلیاں صاف کرنے والے 58 سالہ خاکروب کی ہیرو کی طرح تعریفیں ہو رہی ہیں۔ اس خاکروب  کی ماہانہ تنخواہ 2000 یوان یا 300 ڈالر ہے لیکن وہ گزشتہ 30 سالوں میں  غریب بچوں کی مدد کے لیے 1 لاکھ 80 ہزار یوان یا 27 ہزار ڈالر عطیہ کر چکے ہیں۔
مسٹر زہو کا تعلق چین کے شمال مشرقی صوبے لیاوننگ کے شہر شینیانگ  سے ہے۔ وہ بہت سادہ زندگی بسر کر تے ہیں۔ اُن کی خوراک زیادہ تر اُبلے ہوئے نوڈلز پر مشتمل ہوتی ہے۔

پچھلے 30 سالوں میں انہوں نے کوئی نیا سوٹ نہیں خریدا۔ اُن کا خاندان بھی ایک عام  سے کرائے کے  گھر میں رہتا ہے۔ اُن کی ماہانہ تنخواہ 2000 یوان ہے۔ اس کا بڑا حصہ وہ غریب بچوں کو عطیہ کر دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔
غریب خاندان سے تعلق ہونے کے باعث زہو  غربت کے بارے میں جانتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسی وجہ سے انہوں نے پچھلے 30 سالوں سے اپنی زندگی غریب بچوں کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔

اس دوران وہ اپنے خاندان کا خیال بھی رکھتے ہیں۔
زہو  ابھی چھوٹے تھے کہ اُن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی ماں دماغی عارضوں میں مبتلا تھیں اس لیے اُن کا بچپن دوسرے لوگوں کی مہربانیوں پر گزرا۔انہوں نے چونکہ خود دوسروں کی مہربانیوں کے سہارے بچپن گزارا تھا اس لیے انہوں نے بھی   دوسرے  غریب بچوں کے کام آنے کافیصلہ کیا۔ زہو کے خاندان والے شروع میں تو نہیں سمجھ سکتے تھے۔

ا نجان لوگ بھی حیران ہوتے کہ  کوئی اتنی کم تنخواہ میں سے کیسے دوسروں کوعطیہ دے سکتا ہے ۔لیکن وہ جانتے تھے کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں۔
زہو کےپاس پہلے اپنا مکان تھا، جسے انہوں نے چند سال پہلے فروخت کر دیا ہے۔ اب وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔زہو کی بیوی اُن کی اتنی کم تنخواہ میں سے بھی  غریب بچوں پر خرچ کرنے پر تنقید کرتی تھیں ، پھر ایک دن زہو اپنی بیوی کو اُس  پہاڑی گاؤں لے گئے ، جہاں   وہ غریب بچے رہتے تھے۔

اُن بچوں کی حالت دیکھنے کےبعد سے آج تک اُن کی بیوی نے دوبارہ کچھ نہیں کہا۔
زہو کے  اثاثوں میں چند جوڑے کپڑوں کے علاوہ  عطیات کے وہ سرٹیفیکیٹس  ہیں، جو انہوں نے 30 سالوں میں حاصل کیے ہیں۔
زہو نے بتایا کہ وہ جن بچوں کی مدد کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر ایک بار انہوں نے بھی زہو کی مدد کی تھی۔ ایک بار زہو کو آنتوں میں رکاؤٹ کے باعث ہسپتال داخل  ہونا پڑا۔ اُن کی بیوی اُن کے ساتھ نہیں تھی ۔ بیماری کے اس عرصے میں وہ غریب بچے ہی زہو کے ساتھ رہے ۔
زہو کی زیادہ عمرکے باعث اب ان کے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے لیکن بچوں کی مدد کرنے کے لیے وہ اب تک ملازمت جاری رکھے ہوئےہیں۔
وقت اشاعت : 15/04/2019 - 23:38:50

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments