قدیم چین میں مقبروں میں انسانوں کے ساتھ دفنانے کے لیے انسانوں کی بجائے کتوں کی قربانی دی جاتی تھی

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ مئی 23:52

قدیم چین میں  مقبروں میں انسانوں کے ساتھ دفنانے کے لیے انسانوں کی بجائے ..

طویل عرصہ پہلے بہت سے تہذیبوں میں  مختلف رسومات کے لیے انسانوں اور جانوروں کی قربانی کی جاتی تھی۔
لائیو سائنس کے مطابق اب ماہرین نے پتاچلایا ہے کہ   شانگ خاندان کے دور حکومت میں  مقبروں میں دفنانے کے لیے 6 ماہ کی عمر کےکتوں کی قربانی دی جاتی تھی۔ بعض دفعہ انہیں زندہ ہی دفن کر دیا جاتا تھا۔
شانگ خاندان نے چین پر 1766  قبل مسیح اور 1046 قبل مسیح  کے درمیان حکومت کی ہے۔

اس وقت کےمعاشرےمیں انسانوں اور جانوروں دونوں کو ہی قربان کیا جاتا تھا، اس کے بعد ان کی باقیات مردہ افراد کے مقبروں میں دفن کی جاتی تھیں۔
اس وقت سور اور کتے ہی سب سے زیادہ قربان کیےجاتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین اور مغربی یوروایشیا کے بیچ تجارت بڑھی  تو بھیڑ، بکریاں اور مویشی زیادہ مقبول ہو گئے۔

(جاری ہے)


ماہرین آثار قدیمہ  روڈریک کیمپبل اور زیپینگ لی نے   چین کی ماضی کی کھدائیوں کے ڈیٹا  سے پتا چلایا ہے کہ جن کتوں کی قربانی دی جاتی تھی،ا ُن کی عمر 6 ماہ تک ہوتی تھی۔

اس بات سے ماضی کےا س نظریے کی نفی ہوتی ہے کہ  مرنے والوں کے ساتھ اُن کے پیارے پالتو جانور دفن کیے جاتے تھے۔چھوٹی عمر میں کتوں کی قربانی سے یہ بھی لگتا ہے کہ انہیں صرف قربانی کے لیے ہی پالا جاتا تھا۔
یہ تحقیق آرکیالوجیکل ریسرچ  اِن ایشیا میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں انسانی مقبروں میں ملنے والی جانوروں کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ مقبروں میں قربانی کے بعد دفن کیے گئے 73  فیصد کتوں کی عمر ایک سال سے کم تھی جبکہ 37 فیصد کی عمر 6 ماہ سے بھی کم تھی۔ ڈھانچوں سے لگتا ہے کہ صرف 8 فیصد جانور بالغ تھے۔ اگر یہ کتے پالتو تھے تو یہاں ہر عمر کے کتوں کی باقیات ملنی چاہیے تھی۔
ماہرین  نے آنیانگ  کے شہر میں 2000 قبروں کی جگہ   کا جائزہ لیا۔ ان میں سے ایک تہائی میں  کتوں کی باقیات ملی ہیں۔ تحقیق کے نتائج سے سوال پیدا ہوتے ہیں کہ شانگ خاندان کس طرح سے  جانوروں کی قربانی کرتا تھا۔
چین میں کتوں کی تدفین کی تاریخ خاصی قدیم ہے۔ چین میں قدیم ترین کتے  کی تدفین کی جگہ 9 ہزار سال پرانی ہے۔ یہ جگہ شمالی چین میں جیاہو کے مقام پر ہے۔

وقت اشاعت : 11/05/2019 - 23:52:27

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments