دنیا کے بزرگ ترین انسان ہونے کے دعوے دار 123 سال کی عمر میں چل بسے

Ameen Akbar امین اکبر منگل مئی 23:29

دنیا کے بزرگ ترین انسان   ہونے کے دعوے دار 123 سال کی عمر میں چل بسے
ایک شخص، جو دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دنیا کے طویل العمر ترین انسان ہیں، مبینہ طور پر 123 سال کی عمر میں چل بسے۔ 8 بچوں کے باپ  اپاز لیوف  7 سال کی عمر سے کام کر رہے ہیں۔ 7 سال کی عمر میں انہیں  اکیلے ہی پہاڑوں پر بھیج دیا گیا تھا۔  اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ روسی خانہ جنگی 1917 سے 1922 تک میں ریڈ آرمی کی طرف سے لڑے۔اس کے بعد 45 سال کی عمر میں وہ اتنے بوڑھے ہوئے  کہ دوسری جنگ عظیم نہ لڑسکےا ور ٹریکٹر ڈرائیور بن گئے۔

اُن کا طرز زندگی کافی سادہ تھا۔ وہ روز 11 گھنٹے سوتے تھے۔
اپاز اور دیگر کئی لوگوں  کو 1944 میں سٹالن نے  قازقستان ملک بدر بھی کر دیا تھا۔  قازقستان میں انہوں نے کافی غربت میں زندگی گزاری۔اُن کا دعویٰ  تھا کہ اُن کی پیدائش کا ریکارڈ  ضائع ہو گیا تھا۔ اگر یہ درست ہے تو وہ باضابطہ طور پر دنیا کے طویل العمر ترین سمجھے جانے والے انسان 116 سال  اور 54 دن  کی عمر میں وفات پانے والے جیرومون کیمورا سے بھی بڑے تھے۔

(جاری ہے)

اپاز ٹی وی نہیں دیکھتے تھے، نہ ہی سگریٹ اور نہ ہی شراب پیتے تھے۔ وہ ڈاکٹروں سے جتنا ممکن ہوتا دور رہنے کی کوشش کرتے۔ 121 سال کی عمر میں انہیں موتیا کی وجہ سے آپریشن کرانا پڑا۔وہ  روسی قفقاز کی پہاڑیوں  پر اپنے باغ کی تازہ سبزیاں اور مقامی گوشت کھاتے تھے۔ وہ دودھ اور چشمے کا تازہ پانی پیتے۔
اپنی وفات سے پہلے انہوں نے اپنے لمبے چوڑے خاندان کو وصیت کی کہ جو آپ کے پاس ہے، اس کی قدر کریں اور اسے دوسروں سے بانٹیں۔
وقت اشاعت : 14/05/2019 - 23:29:13

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments