روسی چوروں نے ریل کا پُل ہی چرا لیا اور مہینوں کسی کو پتا ہی نہ چلا

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ جون 23:54

روسی چوروں نے ریل کا پُل ہی چرا لیا اور مہینوں کسی کو پتا ہی نہ چلا

ابھی تک تو آپ کاروں، موٹرسائیکلوں  اور دیگر قیمتی سامان کے چوری کے بارے میں سنتے رہے ہونگے لیکن کیا آپ نے کبھی پورے ریلوے پل کی چوری کے بارے میں سنا ہے؟
روس میں مورمانسک کے جنوب میں 100میل کے فاصلے پرواقع اوکتیابرسکایا کے مقامی افراد اُس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ریلوے کے ایک متروک پُل کو غائب دیکھا۔یہ مقام قطبی علاقے  میں فن لینڈ کی سرحد کے قریب اور غیر آباد ہے۔

دریائے امبا کے اوپر واقع یہ پل پہلے فعال تھا لیکن بعد میں متروک ہوگیا۔چوروں نے اس پل کا 75 فٹ طویل اور 62 ٹن وزنی حصہ چرا لیا ہے۔
افواہیں ہیں کہ چوروں نے یہ پل کباڑ میں فروخت کرنے کے لیے چرایا ہے۔اس علاقے میں اس طرح کی وارداتیں عام ہیں لیکن ریلوے پل کے اتنے بڑے حصے کی چوری نے سب کو ہی حیران کر دیا ہے۔

(جاری ہے)


چوری کے بعد اس پُل کی تصاویر مئی کے وسط میں وائرل ہونا شروع ہوئیں۔

روسی سوشل میڈیا سائٹ وی کے پر وائرل تصاویر میں پل کو دریا میں گرے دکھایا گیا تھا۔ 26 مئی کو جاری ہونے والی تصاویر میں دکھایا گیا کہ اس پل کا سارا ملبہ ہی غائب ہو چکا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ یہ کہاں غائب ہوا ہے۔
مقامی افراد کا خیال ہے کہ یہ چوروں کی کاروائی نہیں بلکہ قدرتی مظہر ہے۔ تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ قدرتی مظہر سے پُل اس طرح نیچے نہیں گرتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پل کے نیچے ساتھ ہی گاڑیوں کا پل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ لگتا یہی ہے کہ چوروں نے پل کو کاٹ کر پانی میں گرایا اور پھر اسے ٹکڑے کرکے ساتھ لے گئے۔ 2007 میں اس پل کا استعمال ترک کرکے باقی ریلوے لائن تو ہٹا لی گئی تھی لیکن یہ پل بدستور موجود رہا۔
رپورٹ کے مطابق اس پل کی کل قیمت 6 لاکھ روبلز یا 9201 امریکی ڈالر تھی۔

وقت اشاعت : 15/06/2019 - 23:54:25

Your Thoughts and Comments