روسی ارب پتی نے اپنے پرانے سکول کو ویغسائی محل میں بدل دیا

Ameen Akbar امین اکبر جمعہ ستمبر 23:54

روسی ارب پتی نے اپنے پرانے سکول کو ویغسائی محل میں بدل دیا

کیا آپ نے کبھی خواہش کی ہے کہ جس سکول میں آپ روزآنہ جاتے رہے ہیں، وہ پری ستان کا منظر پیش کرے؟   ایک روسی ارب پتی نے ایسی ہی خواہش کی تھی۔ وہ اتنے امیر بھی ہوگئے کہ اپنی اس خواہش کوحقیقت کاروپ دے سکیں۔ اب انہوں نے اپنے پرانے سکول کو حقیقت میں  ویغسائی محل جیسا بنا دیا ہے۔ویغسائی محل یا انگریزی تلفظ ویرسائی محل (Palace of Versailles) فرانس کا ایک شاہی محل و آرٹ میوزیم ہے جو ویغسائی میں واقع ہے۔


یاکاترنبرگ کے 106 سیکنڈری سکول کی حالیہ تزین و آرائش  نے اسے مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اس سکول کے سابقہ طالب علم آندے سیمانوسکی کے بھاری عطیات نے 1940 کی دہائی کے سکول کو  شاندار محل میں بدل دیا ہے۔اس سکول کی  چھتوں پر اب قیمتی فانوس لتک رہے ہیں۔فرش پر بہت قیمتی  ماربل لگایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

سکول میں  پانی کے خوبصورت فوارے ہیں۔ دیواروں کو شاندار انداز میں سجایا گیا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی اس سکول میں صرف گراؤنڈ فلور کوریڈور اور ٹوائلٹس کا کام مکمل ہوا ہے۔ ڈائریکٹر کے آفس اور ایلیمنٹری سکول کے طلباء کی کلاسوں  کی تزین و آرائش جاری ہے۔آندرے نے بتایا کہ وہ سکول کی اوپری منزل، جمنازیم اور بیرونی گراؤنڈ کی تزین و آرائش بھی کرائیں گے۔تاہم یہ مقامی حکام کی منظوری سے مشروط ہے۔مقامی حکام نے اگرچہ  سکول کی تزین  و آرائش کی  مخالفت نہیں کی۔

تاہم شہر کے بہت سے ڈیزائنر اور بلاگرز نے  اس پر کافی تنقید کی ہے۔ انہوں نے بچوں کے سکول میں بھڑکیلی  تزین و آرائش  اور اس میں سونے کے استعمال پر کافی تنقید کی ہے۔ تاہم شہر کے میئر  الیگزینڈر ویسوکنسکی نے آندرے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کم از کم اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ تو کر رہے ہیں۔
آندرے نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیا ہے کہ اب طلبا کو  ویغسائی یا کسی دوسرے مشہور محل کی سیر کرنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے تنقید کرنے والے لوگوں کو حسد میں مبتلا قرار دیا۔
سکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ  تزین  و آرائش کے بعد انتظامیہ، والدین اور طلباء کی سکول میں دلچسپی اور جوش و خروش  بہت بڑھ گیا ہے۔


وقت اشاعت : 06/09/2019 - 23:54:42

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments