ہاتھ سے پستول بنا کر کسی کو گولی مارنا بھی جرم ہے۔ عدالت نے ایک شخص کو جرمانہ کر دیا

Ameen Akbar امین اکبر منگل ستمبر 23:48

ہاتھ سے پستول بنا کر کسی  کو گولی مارنا بھی جرم ہے۔ عدالت نے ایک شخص ..

امریکا میں  ان دنوں ہتھیاروں کے جرائم زورں پر ہیں۔ ایسے میں ہاتھ سے پستول بنا کر کسی پر تاننا بھی لوگوں کو مشکلات میں ڈال رہا ہے۔
پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوگیا، جب  انہیں اپنے ہمسائے سےبحث کے دوران ہاتھ سے پستول بنا کر فائر کرنے کا ”مجرم“ قرار  دیا گیا۔
یہ انوکھا واقعہ جون 2018 میں اس وقت پیش آیا جب  64 سالہ سٹیفن کرچنر اپنی دوست کے ساتھ گلی سے گزر رہے تھے۔

نگرانی کے  کیمرے کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سٹیفن اپنی دوست کے  ساتھ گزرتے  ہوئے اپنے ہمسائے کے گھر کے سامنے پہنچے، مڑے اور انہوں نے ہاتھ سے پستول بنا کر ہمسائے پر فائر کر دیا۔سٹیفین کو اندازہ نہیں تھا کہ  اس  چھوٹی سی حرکت سے  ایک سال تک جاری رہنے والی قانونی جنگ  شروع  ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

سٹیفن کی فنگر گن سے گلی میں موجود لوگ اس قدر پریشان ہوئے کہ انہوں نے پولیس کو فون کر دیا۔

اس پر ہمسائے نے بھی پولیس کو شکایت کی کہ سٹیفین کی اس  حرکت کو وہ شدید دھمکی محسوس کر رہا ہے۔ سٹیفن نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہیں اپنی حرکت سے پریشانی بڑھانے کا اندازہ تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ  جرم ہوتا ہے۔
سٹیفن نے اخباری رپورٹروں کو بتایا کہ وہ 64سال کےہیں۔ اُن کا تو کبھی چالان بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمسائے نےبھی انہیں انگلی دکھائی تھی، جس کے جواب میں انہوں نے ایسا کیا۔


پچھلے سال جج ہاورڈ ایف کنیسلے   نے کہا تھا کہ سٹیفن کا یہ عمل بے ضرر نہیں ہے۔ اس نے  مشکل حالات پیدا کر دئیے ہیں۔سپیرئیر کورٹ  کے پینل نے بھی اس سے اتفاق کیا کہ سٹیفن کی حرکت کی وجہ سے راہ گیروں  کو پریشانی ہوئی اور انہوں نے پولیس کو فون کیا۔ عدالت نے سٹیفن کو عدالتی اخراجات  اور جرمانے کی مد میں 100 ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔


وقت اشاعت : 10/09/2019 - 23:48:37

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments