یہ غریب خاندان اپنی 14 ماہ کی بچی کو دودھ کی بجائے روز 1.5 لیٹر کافی پلاتا ہے

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ ستمبر 23:51

یہ غریب خاندان اپنی  14 ماہ کی بچی کو   دودھ کی بجائے روز  1.5  لیٹر  کافی ..

انڈونیشیا سے آنے والی  14 ماہ کی بچی کی کافی پینے کی خبر نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی اس بچی کے والدین اتنے غریب ہیں کہ وہ اپنی بچی کے لیے دودھ نہیں خرید سکتے۔ اسی وجہ سے یہ بچی پچھلے آٹھ ماہ سے کافی پی رہی ہے۔
14 ماہ کی حادیجا ہاؤرا کا تعلق مغربی انڈونیشیا کے صوبے  سولاویسی  کے گاؤں تونرو لیما گاؤں سے ہے۔ وہ ہر روز  کافی کی تین بے بی بوتلیں یعنی 1.5 لیٹر کافی پیتی ہے۔

عام طور پر بالغ انسان بھی اس سے کم  کافی پیتے ہیں۔ حادیجا پچھلے آٹھ ماہ سے بس کافی ہی پی رہی ہے۔ یعنی اس کی آدھے سے زیادہ زندگی  بس کافی پیتے ہی گزری ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ عام بچوں کی طرح بڑھ رہی ہے۔ کافی پینے سے اس کےلیے صحت کے مسائل پیدا نہیں ہوئے۔ حادیجا کےوالدین کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اپنی بیٹی کو کافی پلانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ وہ اس کےلیے گائے کا دودھ نہیں خرید سکتے۔

(جاری ہے)


حادیجا کی ماں انیتا نے بتایا کہ  اُن کے پاس دودھ خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، اس لیے وہ اپنی بیٹی کو کافی پلاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  اُن کی بیٹی کو  کافی پیئے بغیر نیند بھی نہیں آتی۔انیتا اور اُن کے شوہر شریف الدین   ناریل چھیل کر روز کے 20 ہزار انڈونیشین روپے یا 1.4 ڈالر یا 220 پاکستانی روپے کماتے ہیں۔اس  رقم سے اُن کے روز مرہ کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں۔

بعض دفعہ انہیں کام بھی نہیں ملتا۔ ایسے میں ان کے پاس  اپنی بیٹی کو سستی کافی پلانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔
مشرقی ایشیائی سوشل میڈیا پر حادیجا کے کافی پینے خبر  اور انیتا کا مقامی حکام کی طرف سے کبھی بھی فارمولا دودھ نہ ملنے کا بیان وائرل ہوگیا ہے۔خبر وائرل ہونے کے بعد پولوالی ماندر ہیلتھ ایجنسی کے اہلکار انیتا کے پاس پہنچے۔ انہوں نے حادیجا کے لیے دودھ اور بہت سی کوکیز دی۔ انہوں نے انیتا کو کہا کہ اب وہ اپنی بیٹی کو کافی نہ پلائے کیونکہ  اس میں شامل کیفین اور شکر بچی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

یہ غریب خاندان اپنی  14 ماہ کی بچی کو   دودھ کی بجائے روز  1.5  لیٹر  کافی ..
وقت اشاعت : 21/09/2019 - 23:51:19

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments