بارش برسانے کا دعویٰ کرنے والے موجد پر کسانوں نے دھوکہ دہی کا الزام لگا دیا

ہفتہ اکتوبر 19:00

بارش برسانے کا دعویٰ کرنے والے موجد پر کسانوں نے  دھوکہ دہی کا الزام ..
ڈیوڈ مائلز ایک آسٹریلیوی موجد ہیں۔وہ 20 سالوں سے موسم میں تبدیلی کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ آسٹریلیوی کسانوں نے اُن پر دھوکہ دہی سے 50 ہزار آسٹریلیوی ڈالر وصول کرنے کا الزام لگایا ہے۔کسانوں نے کہا ہے کہ ڈیوڈ مائلز نے اُن سے کسی بھی وقت مطالبہ کرنے پر بارش برسانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی وضاحت نہیں کی ہے۔

ڈیوڈ ریسرچ ویب سائٹ پر متنازعہ موجد ڈیوڈ مائلز نے وضاحت کی ہے کہ انہیں 1990 میں اندازہ ہوا کہ وہ آئن سٹائن روزن بریج (Einstein – Rosen Bridge) کو استعمال کر کے موسم کو تبدیل کر سکتے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ انرجی کی چھوٹی سی مقدار کو استعمال کر کے وہ مستقبل کے موسم کو قریب لا سکتے ہیں۔ ڈیوڈ مائلز نے کسی بھی وقت بارش برسانے کے لیے کسانوں سے ہزاروں ڈالر وصول کیے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ معاہدے کیے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کچھ مشہور تصورات جیسے بٹر فلائی ایفیکٹ کا بھی حوالہ دیا تاہم ابھی تک کسی نے نہیں بتایا کہ بارش اصل میں کیسے ہوتی ہے۔ڈیوڈ نے بتایا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے راز کسی کو نہیں بتا رہے کیونکہ اس طرح کوئی اُن کے آئیڈیا کو چرا کر اسے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ڈیوڈ مائلز نے بتایا کہ انہیں کسی نے یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ نہ کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

کیونکہ ایسی صورت میں انہیں تمام پراسس کو بیان کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ شکوک کو سمجھتے ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کو ظاہر کرنے کی صورت میں ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور اسے ہتھیاروں کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلین کمپی ٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن نے مائلز ریسرچ پر الزام لگایا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے۔

انہوں نے لوگوں سے ڈیوڈ کے ساتھ کوئی معاملہ یا معاہدہ نہ کرنے کا کہا ہے۔دوسری طرف ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ اے سی سی سی انہیں اور اُن کی کمپنی کو بدنام کر رہی ہے ، وہ کامیابی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بارش ہونے کے بعد ہی پیسے وصول کرتے ہیں۔اگر بارش نہ ہوتو وہ کسی سے پیسے نہیں لیتے۔ ڈیوڈ نے بتایا کہ وہ کسانوں سے معاہدہ کرتے ہیں کہ اگر جون کے آخر تک 100 ملی میٹر بارش ہوگی تو انہیں 50 ہزار ڈالر دئیےجائیں گے اور بارش 50 ملی میٹر ہوگی تو انہیں 25 ہزار ڈالر ملیں گے۔

اس سے کم بارش کی صورت میں انہیں پیسے نہیں ملیں گے۔ ایک کسان نے اے بی سی ریڈیو کو بتایا کہ وہ ڈیوڈ کی مبینہ بارش برسانے کی صلاحیت سے مطمئن ہیں۔تاہم ابھی تک ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے جس سے ثابت ہو سکے کہ بارشیں ڈیوڈ کی کوششوں سے ہو رہی ہیں۔ لیکن وہ وضاحت کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔اُن کا کہنا ہے کہ وہ ایسی جگہ کی تیاری میں ہیں، جہاں وہ اپنی ٹیکنالوجی کی چوری کے خطرے سے بے خوف ہو کر اس کا مظاہرہ کر سکیں لیکن اس جگہ کی تیاری کےلیے انہوں نے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا۔
وقت اشاعت : 26/10/2019 - 19:00:28

Your Thoughts and Comments