ایک شوہر سے شادی ناکام ہونے پر خاتون نے ایک ساتھ تین مردوں سے شادی کر لی

Ameen Akbar امین اکبر جمعرات نومبر 23:54

ایک شوہر سے شادی ناکام ہونے پر  خاتون نے ایک ساتھ تین مردوں سے شادی کر ..

اموگاگارا، یوگینڈا میں ایک 36 سالہ خاتون نے  اپنا یک  زوجی  تعلق ختم ہونے پر ایک ساتھ تین مردوں سے شادی کرلی ہے۔

یوگینڈا کی ٹیسو کمیونٹی کے عیسائی پاسٹر کی بیٹی این گریس اگوٹی نے ایک شوہر سے شادی ناکام ہونے کے بعد ایک ساتھ تین مردوں سے شادی کر لی ہے۔ این اپنے فیصلے کے دفاع میں کہتی ہیں کہ انہوں نے تو روایات کے مطابق ایک ہی شوہر سے شادی کی تھی لیکن اُن کے ایک شوہر نےانہیں بہت مایوس کیا۔

اُن کا کہنا  ہے کہ وہ ایک محبت کرنے والا ایسا شوہر چاہتی تھیں جو بطور خاتون خانہ ان کی تمام ضروریات کو پورا کرے لیکن اُن کے شوہر نے  انہیں مایوس کیا۔ اس پر انہوں نے  دوبارہ قسمت آزمائی کرتے ہوئے ایک ساتھ کئی شوہروں کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

این نے بتایا کہ اُن کا شوہر بے کار تھا، انہیں ہی روزی روٹی کمانے کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔

(جاری ہے)

اس شوہر کو چھوڑ کر  وہ کسی خاص شخص کی تلاش میں ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے کیونکہ ان تینوں افراد کا خرچہ بھی وہی اٹھاتی ہیں۔

این کے والدپاسٹر پیٹر اوگوانگ کا دعویٰ ہے  این کے سابق شوہر نے اُن پر درانتی سے حملہ کیا تھا جس کے بعد کمیونٹی کے لوگوں نے اسےبھگا دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ مل کر  این کے موجودہ اور کئی سابق شوہروں کو وہاں سے بھگا دیا ہے۔

این کے تینوں شوہر، رچرڈ ایلچ ، ایک رنڈوے اور ریٹائر پولیس آفیسر ہیں، جون پیٹر الوکا، ایک خوشحال کسان اور مائیکل انیاکو،  جو ایک بڑی عمر کے کنوارے ہیں،  این کی ملکیت  کے 6 جھونٹپروں میں سے تین میں الگ الگ رہتے ہیں لیکن کھانا ایک ساتھ کھاتے ہیں۔تینوں شوہر این کو خاندان کی سربراہ تصور کرتے ہیں اور گھر میں ہر طرح کے فیصلوں کو اختیار این کے پاس ہے۔

این کے شوہر  رچرڈ نے بتایا کہ ایک بار این کی سائیکل خراب ہو گئی تھی، انہوں نے مرمت کی پیش کش کی اور بتدریج این کے شوہر بن گئے۔شریک شوہر جون پیٹر کا کہنا ہے کہ جانور چراتے ہوئے اُن کی ملاقات این سے ہوئی تھی، بتدریج وہ بھی اُن کے جھونپڑے میں منتقل ہو گئے۔ان سب شوہروں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے شریک شوہروں سے کوئی مسئلہ نہیں۔اُن کے درمیان کوئی مسئلہ ہو جائے تو حتمی فیصلہ این کا ہی چلتا ہے۔

پاسٹر پیٹر نے ایک بار ان تینوں کو جھونپڑوں سے نکال دیا تھا لیکن یہ عارضی ثابت ہوا۔ گاؤں کے مکھیا کا کہنا ہے کہ اگر ان تینوں شوہروں کو یہاں رہنا ہے تو  مقامی حکام سے باقاعدہ شناخت حاصل کریں اور انہیں اپنا تعارف کرائیں۔

این گائے کے پائے پکا کر فروخت کرتی ہیں۔  اس وقت وہ چوتھے بچے کی ماں بننے والی ہیں لیکن یہ نہیں جانتی کہ اس کا باپ کون ہوگا۔

وقت اشاعت : 07/11/2019 - 23:54:02

Your Thoughts and Comments