پیدائشی حاملہ بچی کا سی سیکشن کر کے جڑواں کو الگ کر دیا گیا

Ameen Akbar امین اکبر جمعرات نومبر 23:55

پیدائشی حاملہ بچی کا سی سیکشن کر کے  جڑواں کو الگ کر دیا گیا

مونیکا ویگا نے اپنے حمل کے ساتویں ماہ میں الٹرا ساؤنڈکرایا تو انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہونگے۔ لیکن پیدائش  سے پہلے ہی ایک  جنین نے دوسرے کو جذب کر لیا۔

کولمبیا سے تعلق رکھنے والی مونیکا کے حمل  کو جنین میں جنین یا  fetus in fetu کہا جاتا ہے۔ یہ بہت نایاب ہے۔ 2010 کی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طرح کا کیس ہر پانچ لاکھ پیدائش میں سے ایک ہوتاہے۔

بدقسمتی سے مونیکا کے کیس میں پہلے اُن کا سی سکیشن آپریشن ہوا، اس کے بعد اُن کی ایک دن کی بیٹی اٹزمارا کا سی سیکشن کیا گیا۔
اس کیس میں  صرف ایک حبل سری (Umbilical cord) اٹزمارا اور اُن کی ماں کے درمیان درست عام طریقے سے جڑی تھی۔ دوسری حبل سری  اٹزمارا اور مردہ جنین کے درمیان جڑی تھی۔

(جاری ہے)

اس طرح مردہ جنین طفیلی جڑواں کے طور پر نشوونما پاتا رہا۔

یہ مردہ جنین دل اور دماغ نہ ہونے کے باوجود خطرناک حد تک تیزی سے نشوونما پا رہاتھا۔ اس کا سائز صحت مند بچی کے اندرونی اعضا کے لیے خطرہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کو پہلے ماں کی ہنگامی سرجری کرنا پڑی اور اس کے فوراً بعد صحت مند بچی کی ہنگامی سرجری کر کے مردہ جنین کو نکالا گیا۔
طبی جرائد میں اس طرح کے 200 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بہت سے کیسز میں تو اس کی تشخیص میں ہی کافی وقت لگ جاتا ہے، جس سے صحت مند بچہ بھی وفات پا سکتا ہے۔


جنین میں جنین کا ایک کیس 17 سالہ بھارتی لڑکی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ انہوں نے پانچ سال تک پیٹ میں بڑھتی ہوئی گلٹی کو نظر انداز کیا۔ اس گلٹی نے صرف اُن کے پیٹ میں درد کیا اور اُن کی کھانے کی عادات کو متاثر کیا۔ تاہم جب ڈاکٹروں نے ٹسٹ کیے تو معلوم ہوا کہ اس گلتی میں کئی دانت، بال، ہڈیاں اور دوسرے انسانی اعضا تھے۔ اس لڑکی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ تقریباً دو دہائیوں سے اپنے طفیلی جڑواں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے مردہ جنین کے اعضا کو نکال دیا، جس کے بعد لڑکی بالکل صحت مند ہو گئی۔

وقت اشاعت : 28/11/2019 - 23:55:56

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments