آسٹریلیا کے ٹاؤن پر چمگاڈروں کا قبضہ

Ameen Akbar امین اکبر پیر فروری 23:27

آسٹریلیا کے ٹاؤن پر چمگاڈروں کا قبضہ

شمالی کوئنزلینڈ، آسٹریلیا کے ٹاؤن انگہم  میں  پچھلے ماہ چمگاڈروں نے بحرانی صورتحال پیدا کردی ۔ لاکھوں چمگاڈروں نے اس ٹاؤن پر حملہ کر دیا ، جس کے باعث بچے سکول نہیں جا پا ئے اور ریسکیو ہیلی کاپٹر نیچے نہیں اتر سکے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس ٹاؤن میں صرف ایک ہی نوع کی نہیں بلکہ چار انواع کی  چمگاڈروں نے حملہ کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چمگاڈروں کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے مقامی  حکام ان کے خلاف کوئی بڑی کاروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔


ہنچن بروک کے میئر  ریمون جایو  کےمطابق  ایسا لگتا ہے جیسے آسٹریلیا کی تمام چمگاڈریں انگہم میں آ گئی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق انگہم میں چمگاڈروں کی تعداد 3 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے۔ یہ چمگاڈریں جب درختوں پر بیٹھتی ہیں تو ان کے وزن سے درخت کی شاخیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

میئرریمون جایو کا کہنا ہے کہ ان چمگاڈروں نے اپنے موجودہ بسیروں کو ختم کر دیا ہے، اسی وجہ سے انہیں نئی جگہوں کی تلاش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ  یہ چمگاڈریں  سکولوں، ہسپتالوں، کنڈرگارٹن اور پری سکولوں میں بسیرا کرنا چاہتی ہیں۔
انگہم سٹیٹ سکول کے بہت سے بچوں نے چمگاڈروں کےخوف سے  کلاس میں جانا ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ  یہ سکول کے میدانوں میں موجود ہوتی ہیں۔چمگاڈریں اپنے ساتھ بیماریاں لے کر چلتی ہیں۔ یہ بیماریاں انسانوں میں  منتقل ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ یہ چمگاڈریں بچوں پر حملہ کر کے انہیں کاٹ بھی سکتی ہیں، ایسے میں بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہیں۔


بدقسمتی سے حکام چمگاڈروں کو بھگانے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں منتشر کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے۔ چمگاڈریں اپنی جگہ چھوڑنے کے لیے دوسری تمام چمگاڈروں کے اڑنے کا انتظار کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ  اپریل میں ہی منتشر ہوگی۔
بہت سے مقامی افراد چمگاڈروں کے حملے کا بائبل  میں درج طاعون سے موازنہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ  چمگاڈریں  قدرتی توازن قائم رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، ہم ان کے بغیر بدترین صورتحال کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

وقت اشاعت : 10/02/2020 - 23:27:29

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments