عورت نے ایک سال تک پانی نہ پینے کو اپنی صحت کی وجہ قرار دے دیا

Ameen Akbar امین اکبر بدھ فروری 23:53

عورت نے ایک سال تک پانی نہ پینے کو اپنی صحت کی وجہ قرار دے دیا

ایک ماہر غذائیت نے دعویٰ کیا ہے کہ  انہوں نے ایک سال سے پانی نہیں پیا ہے۔ اُن کے دعوے سے انٹرنیٹ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ طویل عرصے تک خشک روزہ  صحت کو زیادہ بہتر کرتا ہے۔
35 سالہ صوفی پارٹک کا کہنا ہے کہ  وہ جوڑوں کے درد،   آنکھوں کے پھولنے، کھانوں سے الرجی، خراب جلد اور ہاضمے کی خرابی سمیت  کئی بیماریوں کی شکار تھیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ جب سے انہوں نے خشک روزہ رکھا ہے، اُن کی یہ بیماریاں بھاگ گئی ہیں۔انہوں نے  بتایا کہ  وہ دن کے 13 سے 14 گھنٹوںمیں کوئی مائع نہیں چھوتی، جب انہیں ضرورت ہوتی ہے تو وہ زندہ رہنے کے لیے ہی پیتی ہے، ان کے مشروب میں پھلوں اور سبزیوں کا جوس ہوتا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ وہ 52 گھنٹوں تک بھی  جوس پیئے  بغیر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

صوفی کا خواب ہے کہ وہ 10 دنوں تک خشک روزہ رکھنے کے قابل ہو جائیں۔

انہوں نے ایک سال سے پانی کی بوتل نہیں پی ۔
بالی، انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی صوفی کا کہنا  ہے کہ اُن کا چہرہ اور جوڑ بہت زیادہ سوج  اور پھول گئے تھے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی مسئلہ نہیں یہ پلاسٹک سرجری سے درست ہو جائے گا پھر اُن کے ایک دوست نے انہیں خشک روزے رکھنے کی تجویز دی، جس کے فوری طور پر  بہت مثبت نتائج سامنے آئے۔


صوفی نے  بتایا کہ بوتل یا ٹونٹی کے پانی  سے آپ کے گردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ تمام غذائی اجزا آپ کے جسم سے نکال دیتا ہے۔صوفی نے بتایا کہ جب آپ خشک روزہ رکھتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کو درحقیقت پانی کی ضرورت  نہیں  ہے۔
صوفی نے اعتراف کیا کہ خشک روزہ ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نےبتایا کہ اُن کے اپنے خاندان نے اُن کے  پانی کے بغیر طرز زندگی کو بڑی مشکل سے قبول کیا تھا۔
انسٹاگرام پر صوفی کے 17 ہزار فالوورز ہیں۔ وہ  اپنے فالوورز سے کہتی ہیں کہ خشک روزہ شروع کرنے سے چند دن پہلے اپنے جسم کو پھلوں اور جوس کا عادی بنا لیں۔

وقت اشاعت : 12/02/2020 - 23:53:29

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments