ہٹلر ہوٹل: دنیا کا سب بڑا ہوٹل،76 سالوں بند

ہٹلر ہوٹل: دنیا کا سب بڑا ہوٹل،76 سالوں بند

برطانیہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27جولائی2015ء) ہوٹل پرورا جسےہٹلر ہوٹل بھی کہا جاتا ہے 76 سال پہلے بنا تھا۔ 10 ہزار کمروں کے ساتھ یہ دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل ہے جو 76 سال سے ہی بند ہے۔ یہ ہوٹل 5 کلومیٹر لمبا ہے جس کے ہر کمرے کا رخ سمندر کی طرف ہے۔ہٹلر نے یہ ہوٹل 1936 میں برطانیہ میں بٹلنز کے ہالیڈے کیمپس کے جواب میں بنایا گیا۔یہ ہوٹل تکمیل کے مراحل میں تھا کہ جنگ چھڑ گئی اور ہوٹل کی تعمیر کا کام روکنا پڑا۔

یہ ہوٹل اب ایک یادگار کے طور پر موجود ہے۔ اس ہوٹل کو 25000 افراد اور اُن کے خاندانوں کی تعطیلات کے لیے بنایا گیا تھا۔اب یہ ہوٹل کسی ڈراؤنی فلم کے سیٹ کا منظر پیش کرتاہے۔ یہ ہوٹل بحیرہ بالٹک کے ایک جزیرے روجین پر بنایا گیا ہے۔ یہ ہوٹل 100 بلاک پر مشتمل ہیں۔

(جاری ہے)

ہر بلاک میں 100 کمرے ہیں۔یہ بلاک ایک میل سے بھی لمبی درجن بھر کوریڈور سے منسلک ہیں۔

جب سے یہ ہوٹل بنا ہے تب سے لے کر آج تک اس میں ایک بھی شخص نہیں ٹھہرا۔اس کے باوجود بلڈنگ جوں کی توں بدستور موجود ہے۔ اگرچہ اس بات کا بھی خدشہ بھی موجود ہے کہ پرونازی اس جگہ کی طرف کھنچے چلے آئیں۔ اس کے باوجود اس کے کچھ حصوں کو جدید بنا کر عوام کے لیے کھولنے کے لیے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ہوٹل کو بنانے کا مقصد نازی کارکنوں کو چھٹیاں گذارنے کی جگہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نازی پروپیگنڈے کا فروغ بھی تھا۔

ہٹلر ہوٹل میں سینما، سکول، ہسپتال اور ایک بہت بڑی جیٹی بھی بنائی گئی، جہاں سے بحری کشتیاں اور جہاز چلتے۔اس ہوٹل کا ہر ڈبل بیڈ روم گرمائش کے مرکزی نظام سے جڑا ہوا تھا۔ 1939 میں جب جرمنی نے پولینڈ پر قبضہ کیا تو اس ہوٹل پر مزید کام بند کر کے فوجی ذرائع کو پولینڈ میں استعمال کیا جانے لگا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد روس نے اس جگہ کو دھماکہ خیز بارود سے اڑانے کی کوشش کی مگر اُن کے پاس اتنا ڈائنامائٹ ہی نہیں تھا جو اس سائٹ کو مکمل طور پر اڑا سکے۔اس کے بعد روسیوں نے اسے مشرقی جرمنی کے لیے ٹینک اور توپ خانے کے بیس کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا جس کے بعد یہ جزیرہ نقشے سے غائب ہو گیا۔

وقت اشاعت : 27/07/2015 - 12:40:09

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments