چینی کہاوت ”بدصورت بیوی خزانہ ہوتی ہے“ کا دلچسپ پس منظر

چینی کہاوت ”بدصورت بیوی خزانہ ہوتی ہے“ کا دلچسپ پس منظر

تعلقات کےحوالے سے ماہر میلیسا شائینڈر نے ایک کتاب لکھی ہے،جس کا نام بدصورت بیوی گھر پر خزانہ ہوتی ہے (The Ugly Wife Is A Treasure At Home) ہے۔
اس کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے میلیسا نے اس چینی کہاوت کا پس منظر اور چین کے موجودہ حالات بھی بتائے ۔ میلیسا کا کہنا ہے کہ کتاب کے لکھنے کے دوران اس نے بہت سے لوگوں کے انٹرویو کیے، جن میں سے ایک شخص نے اسے یہ کہاوت سنائی اور اس نے کتاب کا نام ہی یہ رکھ دیا۔


میلیسا کا کہنا تھا کہ بہت سےلوگ، خاص کر امراء، کسی حسین و جمیل جیون ساتھی کا ساتھ چاہتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اُن کی بیوی ایسی عورت ہو، جسے دوسرے دیکھ کر رشک کریں اور سوچیں کہ اتنی خوبصورت بیوی کا شوہر صاحب حیثیت شخص ہے۔
اس کے برعکس جب عام لوگ یا جن کی مالی حیثیت کچھ زیادہ نہ ہوتو وہ شادی کےلیے ایسی عورت چاہتے ہیں جو بچوں کا اور اپنے ساس سسر کا خیال رکھے، اس کے لیے کھانا پکائے اور گھر کوسنوارے۔

(جاری ہے)

جب عام لوگ اس چیز کو ذہن میں رکھ کر شادی کرتے ہیں تو وہ خوبصورتی نہیں دیکھتے۔میلیسا کا کہنا ہے کہ خوبصورت عورت سے شادی کرنے کا نقصان یہ ہے کہ وہ میک اپ اور کپڑوں پر بہت زیادہ خرچ کرتی ہے اور ہر اس عورت سے زیادہ خوبصورت نظر آنے کی کوشش کرتی ہے، جواس سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے۔اسی پس منظر میں بدصورت عورت ایک خزانہ ہوتی ہے، جس کے خوبصورت نہ ہونے کے باعث شوہر کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔


میلیسا نے بتایا کہ چین میں جو لڑکی 27 سال کی عمر تک شادی نہ کرے اسے شنگنو(Shengnu) کہتے ہیں، جس کا مطلب ”ٹھکرائی ہوئی عورت“ ہوتا ہے۔یہی لفظ وہ ریسٹورنٹ میں چھوڑی ہوئی چیزوں کے بارے میں بھی بولتے ہیں۔ ایک سروے میں 92 فیصد چینی مردوں کا بھی یہی کہنا تھا کہ 27 سال سے بڑی عمر کی لڑکیاں ٹھکرائی ہوئی ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے چینی لڑکیوں پر بہت زیادہ معاشرتی اور ذہنی دباؤ ہوتا ہے اور وہ 25 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلےہی شادی کر لیتی ہیں ۔
اس وقت چین میں صرف 20 فیصد لڑکیاں ایسی ہیں،جن کی عمر 25سال سے زیادہ ہے اور اُنہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔

وقت اشاعت : 28/01/2017 - 23:49:45

Your Thoughts and Comments