بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینانیتا ڈیسائی

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انیتا ڈیسائی
ہندوستانی ادب کی تاریخ میں نام کمانے والی خواتین کو اگر نام بنام گنوایا جائے تو ایک طویل فہرست مرتب ہو جائے گی۔
ہندوستانی ادب کی تاریخ میں نام کمانے والی خواتین کو اگر نام بنام گنوایا جائے تو ایک طویل فہرست مرتب ہو جائے گی۔آپ خود اپنے ذہن پر زور ڈال کر اندازہ کر لیجئے۔ یقینا کئی نام آپ کے ذہن میں بھی آجائیں گئے۔ ہندوستانی ادب کی تعمیر وتشکیل میں خواتین کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ اور انہی خواتین میں ایک نمایاں نام انیتا ڈیسائی کا ہے۔
انیتا ڈیسائی 1937 ء میں بھارتی صوبے اتر پردیش کے شہر مسوری میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد کا تعلق بھارتی بنگال سے جبکہ والدہ کا تعلق جرمنی سے تھا۔ ابتدائی تعلیم مسوری میں حاصل کرنے کے بعد انیتا ڈیسائی نے بی اے کی ڈگری دہلی یونیورسٹی سے 1957 میں حاصل کی اور جیسا کہ ہندوستانی گھرانوں میں عموماََ ہوتا ہے تعلیم مکمل ہوتے ہی اس کی شادی کر دی گئی۔اس کے شوہر کا نام اشون ڈیسائی تھا اور وہ بزنس کے شعبے سے وابستہ تھا۔
شادی کے بعد انیتا ڈیسائی نے اپنی علمی وادبی اہلیتوں کا کھل کر اظہار کرنا شروع کیا۔ اپنے خیالات کا ذریعہ اظہار اس نے انگریزی زبان کو بنایا۔ 1958 میں اس نے اپنا پہلا ناول ” کرائی دی پیکاک“مکمل کیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے اس کے کئی ناول اور افسانوں مجموعے شائع ہوئے۔ اس نے بچوں کے لئے ایک ناول لکھا جس نے 1982 میں بچوں کے ادب کا گارجین ایوارڈ حاصل کیا۔یہ ایوارڈ برطانیہ کے مشہور اخبار گار جین کی طرف سے دیا جاتا ہے۔
بوکر پرائز برطانیہ کا مقتدترین ادبی انعام ہے جو ہر سال دیا جاتا ہے۔ اس پرائز کے لئے کسی ایک ادبی کاوش کا انتخاب کرنے کے لئے سینکڑوں تخلیق کاروں کی تخلیقات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور کڑے ترین معیارات سے گزارنے کے بعد کسی ایک کو انعام کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ادبی دنیا میں اس انعام کو بڑی قدرووقعت حاصل ہے۔
انیتا ڈیسائی کے دو ناول ”کلیئر لائٹ آف دی ڈے“ اور ”ان کسٹڈی“ بوکر پرائز کے لئے نامزد ہوئے۔ دونوں ناول آخری مراحل تک پہنچنے کے باوجود بوکر پرائز کے مصنفین کی نگاہِ کرم کے مستحق نہ ٹھہر سکے لیکن اس سے انیتا ڈسائی کے ادبی مقام اور شہرت میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ بھارت میں اور بھارت سے باہر اس کے ناولوں کو اسی ذوق وشوق سے پڑھا جاتا رہا۔ ان ”کسٹڈی “ پر بعد ازاں فلم بھی بنائی گئی جس نے نقاروں سے خوب داد وتحسین حاصل کی۔
انیتا ڈیسائی کی تخلیقات بھارتی طرزِ زندگی کا گہرا مطالعہ پیش کرتی ہیں۔اس کے کردار ایک بے مہراور دشوار گزار دنیا میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انڈیا کے پابندیوں سے بھرپور معاشرے میں اپنا حق حاصل کرنے کی جدوجہد کرتی خواتین کے کردار اس کے ناولوں میں بار بار ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ ڈرائنگ روم کا میڈی نہیں لکھتی بلکہ حقیقی زندگی کی تصاویر پیش کرتی ہیں۔اس کے ناول زندگی کے خشک تجزئیے نہیں بلکہ طنز اور شگفتگی سے بھر پور لیکن تلخی کی چاشنی لئے ہوئے شہپار ے ہوئے ہیں۔
انیتا ڈیسائی کو برطانیہ کی رائل سوسائٹی آف لٹریچر اور امریکہ کی امریکن اکیڈمی آف آرٹس اینڈ لیٹرز کارکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔1990 میں اسے بھارتی حکومت کی طرف سے سب سے بڑا فنی اعزاز پدم شری دیا گیا اور 1993 میں مشہور تعلیمی ادارے ایم آئی ٹی میں اسے رائٹنگ پروفیسر کے طور پر شامل کیا گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے