بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتیناینا مولکا احمد

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اینا مولکا احمد
پاکستان کی مشہور مصورہ، اینا مولکا 13اگست 1917 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی والدہ کاتعلق پولینڈ اور والد کا روس سے تھا۔
پاکستان کی مشہور مصورہ، اینا مولکا 13اگست 1917 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی والدہ کاتعلق پولینڈ اور والد کا روس سے تھا۔ آپ بچپن ہی سے سیماب صفت ،تخلیق اور متجس ذہن کی مالک تھیں۔ ہوش سنبھالتے ہی اپنے اشتیاق کے سبب مختلف ادیان کا مطالعہ کیا اور اسلام سے بے حد متاثر ہوئیں۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گوڈلفن اینڈ لیٹیمر گرلز ہائی سکول لندن سے حاصل کی۔ اس کے بعد ہیمر سمتھ کالج میں کاونٹی کونسل آف لندن کی طرف سے منعقدہ فائن آرٹ کے امتحان میں سے سکالر شپ حاصل کیا۔ آرٹ کی باقاعدہ تعلیم سینٹ مارٹن سکول آف آرٹ چیئرنگ کر اس لندن آف آرٹ لندن میں داخل ہوئیں۔ رائل کالج سے آرٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد رائل کالج میں ہی ایسوسی ایٹ ان ڈیزائن مقرر ہوئیں۔ رائل کالج سے انہوں نے لیتھو گرافی، لائن انگریونگ، ڈرائی پوائنٹ، ایچنگ اینڈ ایکواٹنٹ، اور وڈانگریونگ میں سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔
3 ستمبر 1939 کو آپ کی شادی شیخ احمد سے ہوئی جو خود بھی آرٹسٹ تھے۔ شادی کے بعد آپ لندن سے امرتسر آگئیں۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کی طرف سے آرٹ ٹیچر کے طور پر منتخب کئے جانے کے بعد آپ اپنے شوہر کے ہمراہ امرتسر سے لاہور چلی آئیں اور اپنے کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں آپ نے برطانوی طرز کے سلیبس کے بجائے امریکی سلیبس رائج کراویا کیونکہ برطانوی سلیبس میں ان کے خیال کے مطابق یہ خامی تھی کہ تھیوری اور پریکٹیکل الگ الگ کروائے جاتے تھے لیکن امریکن طرز کے مطابق تھیوری اور پریکٹیکل اور آرٹ کی تاریخ ایک ساتھ پڑھائے جاتے تھے جس سے طلبہ زیادہ مستفید ہوتے تھے اور ان کی دلچسپی برقرار رہتی تھی۔ آپ ے آرٹ کا کلاسز کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی کوششوں سے پنجاب یونورسٹی فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹ جلد ہی مستحکم ہو گیا اور طلبہ کو فائن آرٹ سے خصوصی لگاوٴ پیدا ہوگیا۔ یہ شعبہ ابتدا میں صرف طالبات کے لئے مخصوص تھا لیکن 1956 میں لڑکوں کو بھی داخلے کی اجازت دے دی گئی ۔
آپ کی کوششوں سے 1958 میں ایم اے فائن آرٹس کی کلاسز کا اجرا ہوا اور 1960 میں بی اے آنرز کا تین سالہ کورس بھی شرو ع ہوا۔ 1964 میں آپ نے پینٹرز اور گرانک ڈیزائنرز کے لئے پیشہ ورانہ کورسز کا اجرا ء کیا۔ موسم گرما کی تعطیلات میں آپ اپنے خاوند کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے جاتیں اور قدرت کے حسین مناظر کو اپنے برش کی گرفت میں لا کر نہ صرف دیکھنے والوں کی آنکھوں کی دعوت کا سامان کرتیں بلکہ ساتھ ساتھ فن کے گرانقد نمونے بھی جمع کرتی جاتیں۔ آپ کے بعد آنے والے فنکاروں نے ان شہ پاروں سے بے حد استفادہ کیا اور آرٹ کی ترقی کا باعث بنے۔
1965 کی جنگ نے آپ کو انتہائی ذہنی صدمے سے دو چار کیا اور آپ نے اپنے فن کے ذریعے جنگ اور اس کے نقصان سے لوگوں کو آگاہ کر کے یہ درس دیا کہ جنگ صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ آپ نے1971 کی جنگ کے دوران پاکستانی فوجیوں کی شجاعت اور بہادری کے واقعات کو اپنے فن پاروں کے ذریعے نمایاں کیا۔ آپ کی یہ تصاویر وار میوزیم میں موجود ہیں۔ پاکستانی افواج کے لئے بنائی گئی آپ کی تصویر۔”قبرالہند“ کو بے حد پذیرائی ملی اور یہ تصویر آپ نے پاکستان آرمی کے لئے تین مرتبہ تیار کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹ سے آپ 1975 میں ریٹائر ہو گئیں لیکن اپنے تجربے اور مہارت کی بدولت آپ نے اپنی خدمات مسلسل جاری رکھیں اور 1983 میں آپ کو تاحیات پروفیسر ایمریٹس مقرر کیا گیا۔
1977 میں آپ نے علامہ اقبال اور قائداعظم کے دو بہت بڑے پورٹریٹ بنائے جو فضل آڈیٹوریم پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں آویزاں ہیں۔
اینا مولکا احمد نے تقریباََ نصف صدی تک فن مصوری کی خدمت کی۔ آپ نے لینڈ سکیپ، فلاسوفیکل اور مذہبی پینٹنگز ،ڈرائنگ اورمونومینٹل پینٹنگز کے بے شمار نمونے بطور یادگار چھوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ سعدی کی کتاب گلستان، رباعیات عمر خیام، فردوسی کے شاہنامہ کے لئے تصاویر بنائیں۔ بے شمار اسکیچز اس پر مستزاد ہیں۔ پاکستان کی دیہاتی زندگی کی عکاسی اور قدرتی مناظر ان کے دل پسند موضوعات میں سے تھے۔
حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے 1963 میں آپ کو ستارہ امتیاز سے اور 1969 میں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ اس کے علاوہ1972 میں آپ قائداعظم آرٹسٹس ایوارڈ اور 1973 میں پاکستان فیڈریشن آف بزنس اینڈ پروفیشنل ویمنز کلب کی طرف سے گولڈ میڈل کی مستحق قرار دی گئیں۔
اینا مولکا نے 21 اپریل1994 کو وفات پائی اور لاہور کے قبرستان میانی صاحب میں سپرد خاک ہوئیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے