بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینبی بی حوا‌ علیہ السلام

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بی بی حوا‌ علیہ السلام
آپ کانام حوا رکھا گیا۔ اس لئے کہ آپ کو ایک زندہ ہستی سے پیدا کیا گیا تھا۔ حضرت اب عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ آپ کایہ نام رکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ہر آدمی کی ماں ہیں۔
دنیا کی پہلی خاتون ،پہلی بیوی اور تمام انسانو ں کی ماں۔ آپ حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ تھیں۔ روایت ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی تو تنہا ہونے کے سبب آپ بہت اداس اور بے قرار رہا کرتے تھے۔ ان کی افسردگی و اضطراب کو دیکھ کر ایک روز خدا تعالیٰ نے اس وقت،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام سو رہے تھے۔ ان کے بائیں پہلو سے ایک پسلی نکلوائی اور اس سے بی بی حواکو تخلیق کیا ۔ یہ پسلی نکالنے سے حضرت آدم علیہ السلام کو کوئی دکھ یا تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ دکھ اور تکلیف نہ ہونے کا سبب علماء کی نگاہ میں یہ ہے کہ اگر ایسا ہونے میں حضرت آدم علیہ السلام کو کسی طرح کی ایذا پہنچتی تو ان کے دل میں بی بی حوا کے لئے ویسی محبت و اپنائیت پیدا نہ ہوتی جیسی کہ ہونی چاہیے تھی۔ گویا میاں بیوی کے باہمی تعلق کو خوشگوار بنانے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مرد کو عورت کی تخلیق کا سبب بننے کے باوجود کسی طرح کی تکلیف سے محفوظ رکھا گیا۔
آپ کانام حوا رکھا گیا۔ اس لئے کہ آپ کو ایک زندہ ہستی سے پیدا کیا گیا تھا۔ حضرت اب عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ آپ کایہ نام رکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ہر آدمی کی ماں ہیں۔
حق تعالیٰ نے بی بی حوا کے قالب میں خوبصورتی و خوب سیرتی کو یکجا کر دیا اور بعد ازاں حضرت آدم علیہ السلام کو نیند سے بیدار کر کے ان کی ملاقات بی بی حوا سے کروائی۔ انہیں دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام نے بے اختیار ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تب حضرت الہٰی سے آواز آئی کے اے آدم: خبردار، اسے مت چھو، بے نکاح یہ تجھ پر حرام ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کی درخواست پران کا نکاح بی بی حوا کے ساتھ کر دیا گیا اور دونوں میاں بیوی کو جنت میں رہنے بسنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی۔ انہیں اجازت دی گئی کہ وہ جنت کے باغوں میں سے جو چاہیں ، کھائیں لیکن ایک درخت کے پاس پھٹکنے کی مناہی کر دی گئی اور اس کا پھل ان پر حرام قرار دے دیا گیا۔
شیطان لعین جو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہی ان کا دشمن بنا ان کی تاک میں لگا بیٹھا تھا ایک روز موقع پا کر وہ جنت میں داخل ہوا، بی بی حوا کے پاس پہنچا اور انہیں ورغلایا کہ خداوندتعالیٰ آپ کو جنت سے نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے اسی واسطے آپ کو اس درخت کا پھل کھانے سے منع کیا ہے کیونکہ کو کوئی بھی اس درخت کو پھل کھائے گا اسے کبھی جنت سے نہیں نکالا جائے گا۔
اس پر بی بی حوا نے ہاتھ بڑھا کراس درخت سے تین پھل توڑ لئے۔ ان میں سے ایک خود کھایا اور دو حضرت آدم علیہ السلام کے لئے لے گئیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے بہتیرانہ نہ کی کہ خداتعالیٰ نے مجھے اس درخت کا پھل کھانے سے منع کیا ہے لیکن بی بی حوا کے مجبورکرنے اور ان کے لئے اپنی فطری محبت کے ہاتھوں لاچار ہو کر پھل کھا لیا۔
یہ پھل کھاتے ہی آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کی آنکھوں پر پڑے ہوئے حجاب اتر گئے، دونوں کی عریانی ایک دوسرے پر عیاں ہوئی وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر شرمانے اور منہ چھپانے لگے اور درختوں کے پتے اتار کر اپنی سترپوشی کرنے لگے۔
بہرحال جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔اس تقصیر پر حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو جنت سے نکال کر زمین پر اتار دیاگیا اور جدائی کی سزاد ی گئی۔حضرت آدم علیہ السلام کو سراندیپ (موجودہ سری لنکا) میں اتارا گیا جبکہ بی بی حوا جدہ میں نازل ہوئیں۔
زمین پر اتارے جانے پر حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا اپنی غلطی پر خوب پچھتائے اور رو رو کر باری تعالیٰ سے مغفرت کی التجا کی۔ بالآخر رحمت باری جوش میں آئی، دونوں کا قصور معاف کردیا گیا اور ان کی باہمی جدائی کو ختم کر کے دوبارہ ملاپ کرا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضورِ حق سے خطا بخشی گئی تو حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا ایک دوسرے سے بہت دور تھے۔ لیکن خطا معاف ہوتے ہی ان کے درمیان حائل فاصلے ایک دم سمٹ گئے اوردونوں نے ایک دوسرے کے آمنے سامنے پایا۔
چونکہ جنت میں واپسی ممکن نہ تھی اس لئے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ اب وہ اسی زمین کو آباد کریں،یہاں کھیتی باڑی کر کے اپنے لئے رزق پیدا کریں اور اپنی اولاد سے اس ویرانے کو بسائیں۔
حکم الٰہی کی تعمیل میں حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا زمین پر زندگی گزارتے رہے اور اس وقت کا انتظار کرتے رہے جب خالق حقیقی کی طرف سے واپسی کا اذن ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے اپنی اولاد کو اللہ کی اطاعت اور دین حق پر کار بند رہنے کی تعلیم دی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے 930 سال کی عمر میں انتقال کیا اور ان کی وفات کے دو سال بعد بی بی حوا نے بھی وفات پائی۔ آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے