بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینایلی نرروز ویلٹ

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایلی نرروز ویلٹ
ایلی نر نے اپنے سسرال میں ایک اچھی زندگی گزاری ۔اپنی سال کی خدمت کی ۔رفتہ رفتہ اس کا شرمیلا پن اور جھجک دور ہو گئی۔ اس کا ایک بچہ بھی ہوا۔
امریکہ کے 32 ویں صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کی بیوی ایلی نر روز ویلٹ ایک ہمدرد اور نیک دل خاتون تھ جس نے دکھی انسانوں کے مسائل کا احساس کرتے ہوئے ان کو حل کرنے کی کوشش کی ان کی مسلسل کوششوں کی بدولت اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کا بل بنا اور پاس ہوا۔
ایلی نرایک معمولی شکل و صورت کی بچی تھی جو کہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوگئی تھی جس کے افراد اپنی خوبصورتی کے حوالے سے نہایت خود پسند تھے۔ اس کی خوبصورت خالائیں اس کو اس کی معمولی شکل وصورت کا احسا س دلاتی رہتی تھی۔ اس کی ماں بھی اس کے بھائیوں پر زیادہ توجہ دیتی۔ والدہ خالاوٴں کے برعکس ایلی نر کے والد اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایلی نر بھی اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھی۔
ایلی نر آٹھ نو برس کی تھی کہ اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کے انتقال کے بعد ایلی نر ااور اس کا چھوٹا بھائی دادی کے پاس رہنے کیلئے چلے گئے ابھی ایلی نر کی عمر دس سال تھی کہ اس کے والد بھی گھوڑے سے گر کرفوت ہوگئے۔ والد کی وفات کے بعد ایلی نر بہت تنہا ہو گئی۔
پندرہ سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اسے انگلستان کے ایک فرانسیسی سکول بھیج دیا گیا ۔ اس کی زندگی بے کیف سی تھی اور وہ خود کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ لوگ س میں دلچسپی لیں لیکن اس کا یہ خیال اس وقت غلط ثابت ہوا جب اس کے ماموں زاد فرینکلن روز ویلٹ نے اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور ان دونوں میں پسندیدگی اور محبت کا آغاز ہو گیا۔ 1905 میں ان دونوں کی شادی ہو گئی۔ اس وقت ایلی نر کی عمر انیس سال جبکہ روز ویلٹ کی عمر 21 سال تھی۔
ایلی نر نے اپنے سسرال میں ایک اچھی زندگی گزاری ۔اپنی سال کی خدمت کی ۔رفتہ رفتہ اس کا شرمیلا پن اور جھجک دور ہو گئی۔ اس کا ایک بچہ بھی ہوا۔
1913 میں روز ویلٹ کو صدر ڈروولیس کی کابینہ میں نائب وزیر بنا دیا گیا۔1917 تک ایلی نرگھر یلو زندگی گزارتی رہی۔ اس وقت شاید اسے بھی گمان نہ تھا کہ اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ بس آیا ہی چاہتا ہے۔
1914 سے لے کر 1918 تک دنیا پہلی جنگ عظیم کی لپیٹ میں رہی جس میں لا تعداد انسان مارے گئے اور پور ی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ ایلی نر ایک اعلیٰ معیار کی زندگی گزار رہی تھی۔ عام فرد کی زندگی کے بارے میں اسے معلومات ہی حاصل نہ تھیں۔ لیکن ایک روز جب وہ ریلوے ملازمین کی کنٹین میں گئی تو اسے اندازہ ہو کہ عام لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں اور جنگ کاایندھن بننے والے افراد کون ہیں۔ سینٹ ایلزبتھ کے پاگل خانے کا دورہ کرنے پر پاگلوں کی حالت زار دیکھ کر اس کے دل میں ہمدردی کے جذبے ابھرے۔ اس نے پاگلوں کی حالت دیکھ کر ورزداخلہ سے ملاقات کی اور اسے آمادہ کیا کہ وہ پاگل خانے کے لئے زائد فنڈز کا انتظام کرے۔ ایلی نر نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ اس نے اک چیریٹی فاوٴنڈیشن سے پاگل خانے کو نقد عطیہ بھی لے کر دیا اور ریڈ کر اس سے رابطہ کر کے وہاں کھیل اور تفریح کے لئے ایک کمرہ بھی تعمیر کرایا۔
یہاں سے ایلی نرکی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے کام شروع کر دیئے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس کے شوہر نے ری پبلکن پارٹی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا اور 1920 میں نائب صدارت کے عہدے کے لئے انتخاب بھی لڑا ۔ایلی نر نے اپنی گھریلو زندگی کا دوبارہ آغاز کر دیا۔
روز ویلٹ کی عمر چالیس برس بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک روز فالج کے حملے نے ان کی دونوں ٹانگیں بیکار کر دیں۔ایسا معلوم ہوا جیسے ان کا سیاسی کیرئیر اختتام کو آپہنچا ہو۔ ایلی نرا مریکہ کی دوسری عورتوں کی طرح اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی تھی اور اس کا شوہر تمام عمر بستر پر بیٹھا ایک مریض کی طرح زندگی گزارتا رہتا لیکن اپنی شریک حیات کے انتخاب میں روز ویلٹ کی نگاہ کسی غلط عورت پر نہ گئی تھی۔
ایلی نر نے اپنے شوہر کی زندگی کی بحالی کا عمل شروع کیا۔ اس نے اپنے شوہر کی سیاست میں لانے کیلئے خود سیاست میں حصہ شروع کردیا۔ اس نے عورتوں کی ٹریڈیونین اور پھر ڈیموکریٹک سٹیٹ کمیٹی کی خواتین شاخ کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔ اس کی ترکیب کامیاب ہوئی۔ 1924 میں سیاست میں روز ویلٹ کی واپسی ہو گئی اور مختصر سے عرصے میں اس نے نیویارک کی گورنرشپ حاصل کر لی۔اس کا سیاسی سفر جاری رہا اور مارچ 1933 میں وہ امریکہ کے عہدہ صدارت پرجا پہنچا۔
اس دوران ایلی نر غریب لوگوں کی فلاح کے لئے مسلسل کام کرتی رہی۔اپنی فلاحی خدمات کی بدولت وہ پورے امریکہ میں ایک سحرانگیز شخصیت کا مقام حاصل کر گی۔ ایک فلاح رکرہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دور اندایش سیاست دان بھی تھی۔اپنی مختلف تقریروں اور بیانات میں اس نے دنیا میں پھیلی آمریتوں پر کڑی تنقید کی جمہوریت کو فروغ دینے کی بات کی اور انسانی آزادی پر زور دیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایلی نر نے اپنے شوہر صدر روز ویلٹ کی خواہش پر اپنے لئے ذاتی اخراجات سے ایک طیارہ بک کیا اور برطانیہ جا کر امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ کا دورہ کیا۔ اس کے ایک سال بعد 1943 میں اس نے بحراقیانوس کے سترہ جزیروں کا سفر کیا۔وطن واپسی پر اس نے زخمی فوجیوں کی عیادت کی اور محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کی ہمت افزائی کے لے اقدامات کئے۔
اس واقعہ کے بیس ماہ بعد 1945 میں اس کے شوہرکا انتقال ہو گیا۔ اس دلیر خاتون نے اپنے شوہر کی میت کو لے کر خود ٹرین میں طویل سفر کیا۔ اس کے شوہر کے جنازہ میں بے شمار افراد نے شرکت کی سوائے اس کے تین بیٹوں کے جن میں سے دو بری فوج میں اور ایک بحری فوج میں خدمات انجام دے رہا تھا۔
اپنے شوہر کی وفات کے بعد بظاہر اس کی زندگی کی کہانی ختم ہوگئی تھی تاہم اس کی زندگی نے ایک بار پھر نیا موڑ لیا۔روز ویلٹ کے انتقال کے آٹھ ماہ بعد امریکی صدر ٹرومین نے ایلی نر کو اقوامِ متحدہ کے پہلے تنظیمی اجلاس میں شرکت کے لئے امریکی وفد کا رکھ بنا دیا۔ بے شمار افراد جن میں خود ایلی نر بھی شامل تھی ایلی نر کو اس ذمہ داری کا اہل نہ سمجھتے تھے چنانچہ ایلی نر کو وفد کمیٹی نمبر3 میں شامل کیا گیا۔ وفد کا خیال تھا کہ اس کمیٹی میں رہتے ہوئے ایلی نر کو زیادہ سرگرم رہنے کا موقع نہ ملے گا لیکن جب اقوامِ متحدہ میں گرما گرم بحث شروع ہوئی تو وہ اس کا مرکزی کردار بن گئی۔ ایک موقع پر جب سوویت یونین کے نمائندے کے سامنے کوئی بھی بولنے کو تیار نہ تھا تو ایلی نر نے امریکی اور انسانی مفادات کا دفاع کیا۔
ایلی نر نے آزادی فکراور اختلافِ رائے کے لئے اپنے موٴقف کوبھر پور طریقے سے پیش کیا۔ ایلی نر کی زبردست تقاریر کی بدولت دوسال تک انسانی حقوق کے منشور پر بحث کے بعد 1948 میں اسے منظور کر لیا گیا یوں ایلی نر نے بنی نوع انسان کے مستقبل کے تحفظ کے لئے ایک بنیاد رکھ دی جس پر آئندہ نسلوں نے ایک عظیم الشان عمارت کی تعمیر کرنا تھی۔
ایلی نر نے1962 میں 78 سال کر عمر میں وفات پائی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے