بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینگلبدن بیگم

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گلبدن بیگم
گلبدن بیگم، سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیرالدین محمد بابر کی بیٹی، نصیر الدین محمد ہمایوں کی بہن اور جلال الدین محمد اکبر کی پھوپھی تھی۔
گلبدن بیگم، سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیرالدین محمد بابر کی بیٹی، نصیر الدین محمد ہمایوں کی بہن اور جلال الدین محمد اکبر کی پھوپھی تھی۔ والدہ کا نام صالحہ سلطان تھا لیکن وہ تاریخ میں دلدار بیگم کے نام سے مشہور ہوئیں۔دلدار بیگم سمرقند کے حکمران سلطان محمود کی بیٹی تھی۔
گلبدن بیگم 929ھ/ 1522ھ میں کابل میں پیدا ہوئی۔اس وقت بابر کو مصائب کے طوفان سے گزر کر کابل پرقبضہ کئے ہوئے اینس برس ہو چکے تھے۔ اس دوران میں اس نے قندوز ، بدخشاں ،باجوڑ ،سوات اور قندھار بھی فتح کر لئے تھے اور وہ فرغانہ کی چھوٹی سی ریاست کی دلایت کے بجائے ایک وسیع سلطنت کی بادشاہت حاصل کر چکا تھا۔
گلبدن بیگم دو سال کی ہوئی تو بابر کی بڑی بیگم ”ماہم بیگم“ نے اسے اس کی حقیقی والدہ دلدار بیگم سے مانگ لیا اور نہایت محبت و شفقت سے اس کی پرورش کی۔ گلبدن بیگم طبعاََ بڑی ذہین اور روشن دماغ تھی پھر اس کی تعلیم وتربیت کا خاص اہتمام بھی کیا گیا چنانچہ اس نے ترکی اور فارسی زبان کی ایک بلند پایہ ادیبہ اور نغزگو شاعرہ کا مقام حاصل کر لیا۔
گلبدن بیگم تقریباََ تین سال کی تھی کہ بابر932 ھ/ 1525 میں اپنے اہل وعیال کوکابل میں چھوڑ کر ہندوستان کی تسخیر کیلئے روانہ ہوگیا۔ اسی سال ابراہیم لودھی اور رانا سانگا کو دو خونریز لڑائیوں میں شکست دے کر اس نے شمالی مغربی ہندوستان پر تسلط جما لیا۔ اس کے ایک سال بعد بابر نے ماہم بیگم کو کابل سے بلا بھیجا۔ ننھی گلبدن بیگم بھی ماہم بیگم کے ساتھ تھی۔ جب وہ آگرہ میں اپنے والد کی خدمت میں حاضر ہوئی تو بابر نے بچی کو سینے لگا لیا اور خوب پیار کیا۔ چند دن بعد بابر کے دوسرے اہل و عیال بھی کابل سے ہندوستان آگئے اور شاہی محلات میں خوب رونق ہو گئی۔ تقریباََ پانچ برس گلبدن بیگم نے اپنے والد کے زیر سایہ خوشی وخرمی کے عالم میں گزارے۔
937ھ/ 1530 ء میں بابر نے وفات پائی تو گلبدن بیگم کی عمر آٹھ برس تھی۔ شعبان 940 ھ/ 1533ء میں ماہم بیگم بھی وفات پا گئی تو گلبدن بیگم اپنی حقیقی والدہ دلدار بیگم کے پاس آ گئی۔ اپنے والد کی وفات کے بعد ہمایوں تخت پر بیٹھ چکا تھا۔ اس نے اپنے تمام اہل خاندان کی نہایت مشفقانہ سرپرستی کی۔ گلبدن بیگم اور دوسری بہنوں سے تو وہ بے پناہ محبت کرتا تھا اور ان کی دلجوئی کیلئے کوشاں رہتا تھا۔ یہی سبب تھا کہ گلبدن بیگم تمام عمر ہمایوں کی خیراندیش اورجاں نثار رہی۔
گلبدن بیگم کی عمر سولہ سترہ برس ہوئی تو اس کی شادی چغتائی خاندان کے ایک معزز نوجوان خضر خواجہ خان سے کردی گئی۔ خضر خواجہ خان کے والد کا نام ایمن خواجہ تھا اور اس کا جدامجد چغتائیوں کا نامور سردار یونس خان تھا۔
جس وقت ہمایوں اور شیرشاہ سوری کی معرکہ آرائیاں ہوئیں اس وقت حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ ہمایوں کو سندھ کا رخ اختیار کرنا پڑا۔ گلبدن بیگم اور خاندان کی زیادہ تر خواتین اس کے بھائی کامران مرزا کے پاس تھیں جو انہیں لے کر کابل چلا آیا۔ چار سال تک گلبدن بیگم کابل میں کامران مرزا کے پاس رہی۔
ہمایوں کے بھائی اس کے خلاف ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ سلطنت کے جو حصے شیر شاہ سوری کے قبضے میں آنے سے محفوظ رہ گئے ہیں، وہ ان کے پاس رہیں۔ چنانچہ کابل پر کامران مرزا نے اور قندھار پر عسکری مرزا نے قبضہ کر لیا۔ ہمایوں کو مجبوراََ ایران کا رخ کرنا پڑا۔ان حالات میں اس کی بیوی حمیدہ بیگم نے اس کا ساتھ چھوڑنا گوارانہ کیا اور ایران کے سفر میں اس کے ساتھ رہی۔ اس سفر میں اگرچہ انہیں سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن راستے میں اللہ نے ایک خوشی بھی نصیب کی۔ وہ یہ کہ امرکوٹ (سندھ) کے مقام پر حمیدہ بیگم کے بطن سے اکبر پیدا ہوا۔
اس دوران گلبدن بیگم کو شوہر خضر خواجہ خان کہاں رہا؟ اس کے بارے میں کسی موٴرخ نے وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا۔ البتہ یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اس دوران عسکری مرزا کے پاس قندھار میں تھا۔ایران کے بادشاہ طہماسپ صفوی نے ہمایوں کی خاطر خواہ پذیرائی کی اور اسکی ہر ممکن مدد کی۔ اس کی اعانت سے ہمایوں نے اپنے بھائیوں سے قندھار اور کابل کی حکومت واپس حاصل کی۔ عسکری مرزا نے گرفتار ہو کر معافی کی درخواست کی جو قبول کر لی گئی جبکہ کامران مرزا سندھ کی طرف فرار ہو گیا۔
ہمایوں کابل سے داخل ہوا تو گلبدن بیگم اپنی والدہ دلدار بیگم اور بہن گل چہرہ بیگم کے ساتھ اس کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ پانچ برس سے بچھڑے ہوئے بہن بھائی بکمالِ مسرت ایک دوسرے سے ملے۔ اس کے بعد گیارہ برس تک گلبدن بیگم کا قیام کابل میں رہا یہاں تک کہ ہمایوں نے سندھ دوبارہ فتح کرنے کے کچھ عرصے بعد وفات پائی اور اکبر تخت نشین ہوا۔
اکبر نے اپنی تخت نشینی کے دوسرے سال خاندانِ شاہی کی خواتین کوکابل سے ہندوستان بلا لیا۔ چنانچہ اس کی والدہ حمیدہ بیگم، پھوپھیاں گلبدن بیگم اور گل چہرہ بیگم اور دوسری بہت سی خواتین ہندوستان پہنچ گئیں۔گلبدن بیگم کا شوہر پہلے ہی ہندوستان پہنچ چکا تھا جسے بعد میں امیر الامراء بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔
گلبدن بیگم کے بطن سے خضر خواجہ خاں کی جو اولاد ہوئی ان میں سے صرف ایک بیٹے اور بیٹی کا ذکر تاریخ میں کسی قدر صراحت سے ملتا ہے۔
983ھ / 1575ء میں گلبدن بیگم شاہی خاندان کی بہت سی خواتین کے ساتھ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئی۔ اس کارروان کا امیرگلبدن بیگم کا ایک محرم سلطان خواجہ تھا اور اس کی نگرانی محمد باقی خاں کوکا اور رومی خاں ایپوکے سپرد تھی۔ حجازِ مقدس میں گلبدن بیگم کا قیام ساڑھے تین سال رہا۔ اس دوران اس نے چار حج کئے اور مدینہ منورہ جا رکر روضہ رسول ﷺ کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا۔
987 ھ / 1575 ء میں حجازِ مقدس سے واپسی کا آغاز ہوا۔ بد قسمتی سے یہ کارروان جس جہاز میں سفر کر رہا تھا وہ عدن کے قریب ایک چٹان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تاہم اللہ نے فضل کیا کہ مسافروں کی جانیں بچ گئیں۔ اس حادثہ کی وجہ سے گلبدن بیگم اور دوسری خواتین کو عدن میں تقریباََ ڈیڑھ سال تک رکنا پڑا لیکن عدن کے ترک گورنر نے ان کے ساتھ شایانِ شان سلوک نہ کیا ۔ بعد ازاں جب ترکی کی فرمانروا سلطان مراد ثالث کو اس واقعے کی خبر ملی تو اس نے گورنر کو سخت سزا دی۔ ڈیڑھ سال کے تھکا دینے والے انتظار کے بعد مصیبت زدہ خواتین کو جہاز مل گئے اور وہ ان پر سوار ہو کر وطن واپس پہنچ گئیں۔
کچھ عرصہ بعد اکبر نے اپنی پھوپھی گلبدن بیگم سے درخواست کی کہ بابر بادشاہ اور ہمایوں بادشاہ کے بارے میں اسے جو کچھ بھی معلوم ہے اسے ضبط تحریر میں لائے چنانچہ گلبدن بیگم نے اپنی شہرہٴ آفاق کتاب ”ہمایوں نامہ“ تالیف کی ۔ یہ کتاب تقریباََ تین صدیوں تک پردہٴ اخفامیں رہی۔ آخر یورپ کی ایک علم دوست خاتون مسز اے بیورج نے اسے بیسیوں کتب خانے کھنگال کر ڈھونڈ نکالا اور نہ صرف اسے زیورِ طباعت سے آراستہ کیا بلکہ بقول علامہ شبلی:
1۔ گلبدن بیگم کی نہایت مفصل سوانح عمری بھی لکھی۔
2۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔
3 ۔ بکثرت استعمال ہونے والے ترکی الفاظ کی تحقیق کی اور ان کے معانی لکھے۔
4۔ کتاب میں سینکڑوں شاہی بیگمات کے نام تھے ان سب کے حالات لکھے اور جس قدر نام کتاب میں آئے ہیں ان کی مفصل فرست شامل کی۔
یہ کتاب1902 میں لندن میں شائع ہوئی۔
ہمایوں نامہ فی الحقیقت گلبدن بیگم کے کمالِ انشاء پردازی کا بہترین نمونہ ہے۔ اس میں اس نے اپنے عہد کی معاشرت اور زندگی کا حال ایسے انداز میں لکھا ہے کہ ہو بہو تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اس دورکی خواتین کی تہذیب و معاشرت کے جو حالات اس کتاب سے معلوم ہوتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
یہ عورتیں پردے کی سخت پابند تھی۔ نامحرم کے سامنے ہونا معیوب سمجھتی تھیں۔ نقاب یا برقعے کے بغیر باہر نہیں نکلتی تھیں۔ اس کے باوجود وہ فنونِ سپ گری سے واقف ہوتی تھیں۔گھوڑے کی سواری کرتی تھیں اور ضرورت پڑنے پر مردانہ لباس بھی پہن لیتی تھی۔اپنی شادی اور نکاح کے معاملے میں عورتوں کو پوری آزادی حاصل تھی۔ خواتین کا بے حد احترام کیا جاتا تھا اور بڑے گھرانوں میں ان کی تعلیم وتربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔
گلبدن بیگم شعرو سخن کا نہایت عمدہ ذوق رکھتی تھی لیکن افسوس اس کا سارا کلام سوائے ایک شعر کے امتدادِ زمانہ سے ضائع ہو گیا ہے۔ وہ شعر یہ ہے:
ہر ہری روئے کہ او با عاشق خود یار نیست
تو یقیں می داں کہ ہیچ از عمر برخوردار نیست
گلبدن بیگم6 ذوالحجہ 1011 ھ بمطابق 17 مئی 1203 کو آگرہ میں فوت ہوئی۔ اس وقت قرمی سال کے اعتبار سے اس کی عمر82 سال تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب اس پرنزع کا عالم طاری ہوا تو اس کی تیماردار ی بیبیوں نے بڑی محبت اور رقت سے کہا۔”بیگم جیو بیگم جیو۔“
گلبدن بیگم نے آنکھیں کھولیں اور نہایت نحیف آواز میں کلمہ طیبہ پڑھا پھر اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا (جو ایک مکمل مصرعہ ہے)۔
من زار بمردم عمرت بادار زانی۔
میں تو اس دنیا سے رخصت ہو رہی ہوں تم جگ جگ جیو۔
اکبر کو پھوپھی کی وفات کی خبرملی تو اسے سخت صدمہ ہوا۔ باچشم گریاں دور تک جنازے کو کندھا دیا۔ اس کی تدفین کے بعد وہ دیر تک قبر پرکھڑا رہا اور پھر بصد حسرت ویاس محل کو مراجعت کی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے