بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت آمنہ رملیہ رحمتہ اللہ علیہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت آمنہ رملیہ رحمتہ اللہ علیہا
حضرت آمنہ رملیہ رحمتہ اللہ علیہا 163 ہجری میں بغداد کے نواحی شہر رملہ میں پیدا ہوئیں۔آپ غریب والدین کی اولاد تھیں

حضرت آمنہ رملیہ رحمتہ اللہ علیہا 163 ہجری میں بغداد کے نواحی شہر رملہ میں پیدا ہوئیں۔آپ غریب والدین کی اولاد تھیں، اس لئے وہ آپ کو اعلیٰ تعلیم نہ دلوا سکے ۔ وہ آپ کو معمولی تعلیم دلوا سکے جبکہ آپ کو علم حاصل کرنے کا بچپن سے ہی زبردست شوق تھا۔ آپ جب ذرا بڑی ہوئیں تو آپ کی والدہ حج کے لئے آپ کو مکہ معظمہ لے گئیں اور وہاں پر حضرت آمنہ کو حدیث ، فقہ اور دیگر دینی تعلیم حاصل کرنے کے موقع حاصل ہوئے۔ مکہ معظمہ سے ان کی والدہ ان کو مدینہ منورہ لے گئیں جہاں حضرت آمنہ رملیہ رحمتہ اللہ علیہا کو امام مالک رحمتہ اللہ علیہا سے علم حدیث حاصل کرنے کاموقع ملا۔ آپ نے بہت سی احادیث زبانی یاد کرلیں۔ آپ سے مروی احادیث کی تعداد سو کے قریب ہے۔
مدینہ میں علم حاصل کرنے کے بعد آپ دوبارہ مکہ تشریف لے آئیں جہاں پر آپ کو امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ اس وقت کی آپ کی عمر 36 سال کی تھی۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ مصر تشریف لے گئے توآپ نے کوفہ میں علماء وسلفاء سے فیض اٹھانے کے بعد وطن کا رخ کیا جہاں پر آپ کے پہنچنے سے پہلے آپ کے علم و فضل کی دھوم مچ چکی تھی۔
اپنے وطن پہنچ کر آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ عام لوگوں کے علاوہ علاقے کے علماء بھی آپ کے درس میں شرکت کرنے لگے 209 ہجری میں آپ بغداد تشریف لے گئیں۔ وہاں پر ایک درویش کامل کی نگاہ سے آپ کی دنیا بدل گی۔ آپ نے اپنا تمام مال واسباب اللہ کی راہ میں دے دیا اور درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔ اب آپ پر وقت گریہ زاری اور عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتیں۔ آپ کے زہد و تقویٰ اور عبادت وریاضت کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔
حضرت بشیر حافی رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم المرتبت ولی اللہ تھے۔ وہ اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ بھی آپ کے معترف تھے۔
ایک بار حضرت بشیر حافی رحمتہ اللہ علیہ بیمار ہوئے۔ آپ ان کی عیادت کے لئے گئیں۔ وہاں پرامام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے ان دونوں عظیم بزرگوں کی فرمائش پر ان کے لئے دعا فرمائی۔
کسی نے آپ کو بہ اصرار دس ہزار اشرفیان دیں۔ آپ نے مجبوراََ لے تو لیں لیکن شام سے پہلے پہلے ان اشرفیوں کو تقسیم کر دیا۔ آپ پرہیز گا اور متقی لوگوں کے علاوہ کسی کے گھر کا کھانا نہ کھاتیں مبادا اس میں حرام یا مشکوک چیز شامل ہو۔
آپ تیسری صدی ہجری کی عظیم عالمات وعارفات میں شامل ہیں۔آپ سے فیض اٹھانے کے لئے لوگ دور دور سے آیا کرتے تھے۔ حضرت آمنہ رحمتہ اللہ علیہا نے تیسری صدی ہجری میں وفات پائی۔ آپ کی زندگی کے بہت سے واقعات تاریخ کی نذر ہو چکے ہیں۔ وقت کی گردنے ان کوگم کر دیا ہے مگر ان کی عظمت کو تاریخ نے بجا طور پر اپنے سینے میں محفوظ رکھا ہے۔

(6) ووٹ وصول ہوئے