بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت امام حسینؓ

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت امام حسینؓ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حسین رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی بن ابو طالب کی صاحبزادی تھیں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حسین رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی بن ابو طالب کی صاحبزادی تھیں۔ آپ اپنی دادی کی ہم نام تھیں، اس لئے ان کو فاطمہ الصغر یٰ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی والدہ کا نام امِ اسحٰق بنت طلعہ رضی اللہ عنہ بن بن عبید اللہ تھا۔ ان کی شادی اپنے تایا حضرت حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ بن حسن رضی اللہ عنہ سے ہوئی جن سے ان کے چار بچے عبداللہ، ابراہیم ، حسن اور زینب پیدا ہوئے۔ ان کے شوہر حسن رضی اللہ عنہ بن حسن رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ان کی شادی عبداللہ بن عمرو بن عثمان رضی عنہ سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے دیباج اور قاسم پیدا ہوئے۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد عبداللہ بن عمرو بھی وفات پا گئے تو اس کے بعد حضرت فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی بقیہ زندگی میں کوئی شادی نہ کی اور تمام عمر بیوگی میں گزاردی۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حسین رضی اللہ عنہ کے ایامِ بیوگی میں مدینہ کے اموی حاکم عبدالرحمٰن بن ضحاک فہری نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا لیکن آپ کا جواب تھا کہ میں ہر وقت اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف رہتی ہوں اور میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں دوسری شادی کر سکوں۔ حاکم مدینہ نے پہلے نرمی سے اصرار کیا۔آپ کے نہ ماننے پر وہ سختی پر اتر آیا اور مختلف طرح کی دھمکیاں دینے لگا۔ اس وقت اموی خلیفہ یزید بن عبد الملک کی حکومت تھی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حسین رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس حاک مدینہ کی شکایت کی تو اس نے نوٹس لیتے ہوئے عبدالرحمٰن بن ضحاک فہری حاکم مدینہ کو معزول کر دیا اور سخت سزاد ی۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت حسین رضی اللہ عنہ کا علم و فضل کے لحاظ سے بھی نہایت بلند مقام تھا۔ حدیث اور فقہ کی بڑی عالم تھیں۔اکثر ذکر الہٰی میں مشغول رہا کرتیں، دھاگے کی گرہوں پرسبحان اللہ کی تسبیح کیا کرتی تھیں۔ بہت سی احادیث ان سے مروی ہیں۔ آپ نے 100 ہجری میں وفات پائی۔

(4) ووٹ وصول ہوئے