بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت صفورہ علیہا السلام

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت صفورہ علیہا السلام
زوجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت صفورہ علیہا السلام حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ تھیں۔ آپ ایک دانشمند ، فرمانبردار اور اطاعت گزار خاتون تھیں۔ شادی سے پہلے آپ اپنے والد کی خدمت کرتی رہیں اور شادی کے بعد اپنے شوہر کی۔
آپ کی اور حضرت موسیٰ کی شادی کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ مصر میں حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اتفاقاََ ایک اسرائیلی کی جان بچاتے ہوئے ایک قبطی قتل ہو گیا۔فرعون کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے غصے میں سپاہی دوڑائے کہ حضرت موسیٰ کو گرفتار کر کیاس کے سامنے پیش کریں۔مقصد یہ تھا کہ بدلے میں حضرت موسیٰکو بھ قتل کرادیا جائے لیکن اللہ تعایٰ نے ایک شخص کے ذریعے آپ کو فرعون کے گھناوٴنے ارادوں کی خبرفرما دی۔ جان بچانے کیلئے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے ایک طرف نکل کھڑے ہوئے۔
مختلف جگہوں اور بیابانوں سے گزرتے ہوئے آپ باہر آئے تو دیکھا کہ مدین جانے کا راستہ آپ کے سامنے موجود ہے ۔ اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیا کہ اس نے آپ کو سیدھی راہ دکھلائی۔آپ مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر بہت سے چرواہے اور ان کے جانور موجود ہیں اور وہ کنویں سے پانی کھینچ کر اپنے جانوروں کو پلا رہے ہیں ۔ آپ نے یہ بھی دیکھا کہ دو عورتیں اس اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے بجائے ان کو کنویں کے قریب جانے سے روک رہی ہیں اور وہاں پر کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر رہا۔ آپ نے ان لڑکیوں سے دریافت کیا کہ وہ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا رہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ کنویں سے پانی نہیں نکال سکتیں۔ جب چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تو وہ بچا کھچا پانی اپنے جانوروں کو پلادیں گئی اور یہ کہ ان کے والد صحت مند نہیں اور وہ بہت بوڑھے ہیں۔
اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے جانوروں کیلئے کنویں سے خود پانی نکالا اور ان کو پلایا۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق اس کنویں کو چراہوں نے ایک بڑے پتھر سے بند کر دیا تھا۔ اس پتھر کو دس آدمی مل کر ہی اپنی جگہ سے ہٹا سکتے تھے۔ لیکن حضرت موسیٰ نے تن تنہا اس پتھر کو اپنی جگہ سے سرکادیا اور ابھی ایک ڈول ہی پانی نکالا تھا کہ بکریاں اس ایک ڈول پانی سے آسودہ ہو گئیں۔اس کے بعد آپ تھکے ہارے ایک درخت کے سایہ تلے بیٹھ گئے۔ آپ مصر سے مدین پیدل آئے تھے۔ آپ کے پیروں میں چھالے پڑگئے تھے۔ درختوں کے پتے اور گھاس پھوس کھا کر آپ نے گزارا کیا تھا۔پیٹ کمر سے لگ رہا تھا۔اس وقت آپ دنیا میں ساری مخلوق سے زیادہ اللہ کے نزدیک تھے۔ اس درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ نے اللہ سے دعا کہ اے اللہ میں تیرے احسانوں کو محتاج ہوں۔
دوسری طرف دونوں لڑکیوں کی بکریوں کو جب موسیٰ نے پانی پلادیا تو یہ اپنی بکریاں واپس لے کر گئیں اور انہوں نے اپنے والد یعنی حضرت شعیب علیہ السلام کو تمام واقعہ بتایا۔ آپ نے ان دونوں بہنوں میں سے ایک کو حضرت موسیٰ کو بلانے کیلئے بھیجا۔ وہ شرم وحیا سے جھجکتی ہوئی آپ کے پاس آئیں اور اپنے والد کا پیغام آپ تک پہنچایا اور بتایا کہ وہ آپ کے احسان کا بدلہ اجرت دیکر اتارنا چاہتے ہیں۔
حضرت موسیٰ دیارِ غیر میں بھوکے پیاسے بے یارومدگار تھے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی آسرا نہ تھا ۔آپ اللہ سے کسی بہتری کی اُمید پر ان کے ساتھ چل پڑے۔ان خاتون نے جب حضرت موسیٰ کے ساتھ اپنے والد کی طرف آنے کا سفر کیا تو حضرت موسیٰ کے آگے آگے چلتی تھیں۔ حضرت موسیٰ نے اس کو گوارا نہ کیا۔ ان کے اپنے پیچھے چلنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ جس طرف مڑنا ہو اس طرف کنکری پھینک دو۔ اس طرح انہیں حضرت موسیٰ کی شرافت کا اندازہ ہوا۔ کنویں سے تن تنہا پتھر ہٹا دینے سے انہیں حضرت موسیٰ کی طاقت کا اندازہ ہوا ور بے یارومدگار عورتوں کی مدد کرنے سے ان کی نیک دلی کا پتہ چلا۔
ان بزرگ کے پاس پہنچ کر حضرت موسیٰ نے تمام واقعہ کہہ سنایا۔ بزرگ نے حضرت موسیٰ کو حوصلہ دیا اور کہا کہ اب تم فرعون کی سلطنت سے باہر ہو۔ اپنی بیٹی کے منہ سے حضرت موسیٰ کی تعریف سن کر انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت موسیٰ سے کر دی اور مہر میں حضرت موسیٰ نے۸ سال تک ان کے لئے کام کرنا منظور فرمایا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ تین افراد کی سی زیر کی، معاملہ فہمی، دانائی اور دور بینی کسی اور میں نہیں پائی گئی۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی جب انہوں نے اپنے بعد حضرت رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر حضرت یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور گھر جا کر اپنی بیوی کو حضرت یوسف کا خیال رکھنے کا کہا۔ اور ان بزرگ کی صاحبزادی کی جنہوں نے اپنے والد سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سفارش کی کہ ان کو کام پر رکھ لیں۔
شادی کے بعد دس سال تک حضرت موسیٰ نے ان بزرگ کی خدمت فرمائی اور دس سال بعد اپنی بیوی کو لے کر واپس وطن کی جانب روانہ ہوگئے۔ واپسی کے اسی سفر میں انہوں نے ایک درخت کی شاخوں میں خدا تعالیٰ کا نور چمکتا ہوا نظر آیا۔ انہوں نے اللہ سے ہمکلامی کا شرف حاصل کیا اور نبوت کا تحفہ لے کر اپنی زوجہ کے پاس لوٹے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے