بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت مغموم رہنے لگے تھے۔
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت مغموم رہنے لگے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ خیال جاگزیں ہو گیا تھا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دامادی کا فخران سے چھن گیا ہے۔ نیز یہ بھی ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ تھا کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں کوئی دوسری عورت نہ تھی۔
اسی دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ک بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر میدانِ بدر میں مرتبہ شہادت پر فائز ہو چکے تھے۔ انہیں اپنی بیٹی کاگھر پھر سے بسانے کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ خوب سوچ بچار کے بعد ان کے ذہن میں ایک تجویز آئی اور اسے عملی جامہ پہنانے کی خاطر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور انہیں کہا کہ کیا ہی اچھا ہو ، اگر آپ میری بیٹی کو اپنی زوجیت میں قبول کریں۔اس سے ہم دونوں کی مشکل آسان ہو جائے گی۔ آپ کو بیوی مل جائے گی اور میری بیٹی کو آپ جیسا عظیم شوہر۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تجویز پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے سوچنے کے لئے کچھ مہلت مانگی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جب ان کی دوبارہ ملاقات ہوئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ ” اے عمر رضی اللہ عنہ !ابھی میرا شادی کا اراداہ نہیں ہے۔“
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان کے سامنے بھی یہی تجویز رکھی کہ اگر آپ پسند کریں تو میں اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا آپ کے عقد میں دے دوں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس بات پر دھیرے سے مسکرائے اور خاموش رہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دوست کی اس خاموشی کا مطلب سمجھ گئے۔
اب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے اور پورا ماجرا بیان کیا۔ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری داستان سننے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا۔” اے عمر رضی اللہ عنہ ! غم نہ کرو۔ حفصہ رضی اللہ عنہا سے وہ شادی کرے گا جو عثمان رضی اللہ عنہ سے بہتر ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی اس سے ہوگی جو حفصہ رضی اللہ عنہا سے بہتر ہے۔“
چنانچہ تھوڑے ہی عرصے بعد یہ بات سچ ہوئی۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر کے انہیں ذوالنوین بنا دیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو اپنے عقد میں لے کر ام المومنین۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ام اکلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ربیع الاول 3 ہجری میں ہوا اور جمادی الآخر میں رخصتی ہوئی۔
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اعلانِ نبوت سے چھ سال پہلے پیدا ہوئیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کے کچھ عرصہ بعد حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتیبہ سے کیا گیا جس نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد اپنے باپ کے حکم پر حضرت کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عق میں آنے کے بعد عضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے نہایت خوشی و خرمی سے وقت گزارا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ کی تمام ضروریات کا پورا پورا خیال رکھتے تھے اور آپ کو کسی قسم کی کمی نہ ہونے دیتے تھے۔ ان کی زندگی میں کمی صرف ایک تھی۔ وہ یہ کہ اللہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بطن سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اولاد سے نہیں نوازا تھا، اور جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا، اس کمی میں بھی ربِ کریم کی مصلحت پوشیدہ تھی۔
حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ساتھ تقریباََ چھ برس رہا۔ شعبان 9 ہجری میں آپ خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔انتقال کے وقت آپ کی عمر 22 برس تھی۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔”اگر میرے دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو عثمان رضی اللہ عنہ کی تزویج میں دے دیتا۔“

(4) ووٹ وصول ہوئے