بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا
رب قدیر وغفور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار بیٹیوں کی دولت سے نوازا۔ یہ چار بیٹیاں ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے پیدا ہوئیں۔
رب قدیر وغفور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار بیٹیوں کی دولت سے نوازا۔ یہ چار بیٹیاں ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے پیدا ہوئیں۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک تیس سال کی تھی۔ بیٹی کی پیدائش پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے حد خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور خدا کا شکر ادا کیا۔
آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو زینب کا نام دیا۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا ابھی دس سال کی عمر کو پہنچی تھیں کہ آنحضرتصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہی مشرف بہاسلام ہوئیں۔
حضرت زینب کی شادی ان کی حقیقی خالہ ہالہ کے بیٹے ابو العاص بن ربیع سے ہوئی۔ ابو العاص نے اسلام قبول نہ کرنے کے باوجود اسلام اور اہل اسلام کی ہر ممکن اعانت کی ۔ شعب ابی طالب میں خاندانِ ہاشم کی محصوری کے دنوں میں وہ کفارِ مکہ سے چوری چھپے انہیں کھانے پینے کا سامان فراہم کرتے رہے۔
جب مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان کے ساتھ شامل نہ ہو سکیں کیونکہ آپ کے شوہر ہنوز مسلمان نہ ہوئے تھے۔ ابو العاص نے غزوہ بد ر میں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور شکست کھانے کے بعد قیدی ہو کر مدینہ آئے۔ قیدیوں کو زرِ فدیہ لے کر رہا کیا جا رہا تھا۔جب ابو العاص سے فدئیے کا کہا گیا تو انہوں نے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا کہ کسی طرح رقم کا بندوبست کرو۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس نقدر رقم موجود نہ تھی، چنانچہ انہوں نے عقیق کا وہ ہار فدئیے کے طورپر بھجوایا جو ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جہیز میں دیا تھا۔
جب یہ ہار آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچا تو اپنی محبوب زوجہ کی نشانی دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آبدیدہ ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی رضا مندی سے وہ ہار واپس کر دیا اور ابو العاص کو اس شرط پر رہا کر دیا کہ وہ مکہ پہنچتے ہی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو مدینہ بھیج دے۔
مکہ پہنچ کر ابو العاص نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے بھائی کنانہ نے ساتھ ایک مخصوص مقام کی طرف روانہ کر دیا جہاں حضرت زیدین حارثہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری انہیں بحفاظت مدینہ لے جانے کے لئے منتظر بیٹھے تھے۔
ابھی وہ لوگ کچھ ہی دور پہنچے تھے کہ کفارِ مکہ کو ان کی روانگی کی خبر ہو گی۔ انہوں نے ان دونوں کا تعاقب کیا اور مقام ذی طویٰ پر ہباربن الا اسو د اور نافع بن قیس ان تک جا پہنچے۔ ہبار بن الا سود نے آگے بڑھ کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے اونٹ کو اپنے نیزے سے ایک زور دار کچاکا دیا جس سے وہ تڑپ اٹھا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا توازن کھ کر نیچے جا گریں۔ انہیں سخت چوٹ آئی۔
یہ دیکھ کر کنانہ بن ربیع نے ان پر حملہ کا ارادہ کیا کہ اسی اثناء میں ابوسفیان وہاں آ پہنچا۔ اس نے کنانہ سے کہا اگر تم زینب رضی اللہ عنہا کوعلی الا علان ہمارے درمیان سے نکال کر لے جاوٴ گے ہماری سخت سبکی ہوگی۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ تم اس وقت زینب رضی اللہ عنہا کو واپس لے جاوٴ اور جب لوگ دیکھ لیں کہ ہم نے تمہیں مدینہ جانے سے روک دیاہے تو پھر رات کو چپکے سے انہیں لے جانا۔
کنانہ بن ربیع نے یہ بات مان لی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لے کر مکہ واپس آگیا۔ اس واقعہ کے چند روز بعد وہ ایک رات حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو لے کر چپکے سے نکلا اوراس مقررہ مقام تک پہنچ گیا جہاں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا اور ان کے انصاری ساتھی ابھی تک حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنے محترم والد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئیں۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے پہنچے تو آپ نے انہیں تمام صورتِ حال اور ابو العاص کی آمد کے مقصد کے متعلق بتایا۔ اس پر آپ اس سریہ میں حصہ لینے والے مجاہدین کو بلاکر کہا کہ اگر تم لوگ ابوالعاص کا مال لوٹا دو تو مجھے بڑی خوشی ہو گی اور اگر نہ لوٹانا چاہو تو یہ مال فئے ہے ۔ اس پر تمہارا زیادہ حق ہے۔
اصحاب ِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی کو مقدم رکھتے ہوئے تمام سامان واپس لوٹا دیا۔ کوئی معمولی سی چیز بھی اپنے پاس نہ رکھی۔
ابو العاص اس مال کو لے کر مکہ واپس پہنچے۔ جس جس کا مال تھا اس ے واپس لوٹایا اور اس کے بعد بھرے مجمع میں کھڑے ہو کر اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کر دیا اور مدینہ منورہ آگے۔ آپ کے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے درمیان شرک کی وجہ سے علیحدگی ہو گئی تھی، اب یہ علیحدگی ختم ہو گی اور بعض روایتوں کے مطابق نکاحِ جدید پر اور بعض کے مطابق سابق نکاح ہپر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت ابو الولعاص رضی اللہ عنہ کے ہاں بھیج دیا گیا۔
میاں بیوی کی یہ رفاقت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ حضرت زینب ۸ ہجری میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لخت جگر کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی۔ دفنانے سے پہلے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور خدا سے دعا کی کہ زینب رضی اللہ عنہا کے لئے قبر کی حالت کو آسان فرما دے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی جس کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قبر سے نکل کر دی

(6) ووٹ وصول ہوئے