بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینہیلن کیلر

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہیلن کیلر
ہیلن کیلر کی کہانی ایک بہری اور نابینا بچی کی کہانی ہے جس نے اپنے اندھے پن اور بہرے پن کے باوجود نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ مایوس لوگوں کے دلوں میں اپنے جوش و ولوے سے ہمت پیدا کی۔
ہیلن کیلر کی کہانی ایک بہری اور نابینا بچی کی کہانی ہے جس نے اپنے اندھے پن اور بہرے پن کے باوجود نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ مایوس لوگوں کے دلوں میں اپنے جوش و ولوے سے ہمت پیدا کی۔
ہیلن کیلر 1880 میں امریکی ریاست الابامہ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئی۔ ابتدا وہ دوسرے بچوں کی طرح نارمل جسمانی اہلیتوں کی مالک تھی لیکن انیس ماہ کی عمر میں ایک خوفناک مرض کے حملے نے اس کا دماغ ماوٴف کر دیا۔ علاج سے اس کی جان تو بچ گئی لیکن وہ ہمیشہ کے لئے نابینا اور بہری ہوگئی۔ اس پر مستزادیہ کہ جو الفاظ وہ بول سکتی تھی وہ ب بھول گئی۔
ابتدائی چند سال اس نے خاموشی اور تاریکی میں گزارے۔ پھراس نے اپنی گڑیا اور اپنے حبشی باورچی کی ننھی بچی کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔اس کی والدہ اس کے لئے بہت پریشان رہتی تھی۔اس نے ایک جگہ پڑھا کہ کسی شخص نے ایک بہری او اندھی عورت کولکھنا پڑھنا سکھایا تھا۔ مختلف جگہ دربدر ہو کر اس کی والدہ ٹیلی فون کے موٴجد ڈاکٹر گراہم بیل سے ملی اور انہوں نے اسے سپیشل بچوں کی استانی مس این منز فیلڈ سیلوان تک پہنچا دیا۔
مس سلیوان ہیلن کیلر کی زندگی میں انقلاب بن کر وار دہوئی۔مس ہیلوان نے ہیلن کیلر کے ہاتھ پرالفاظ لکھ لکھ کر احساسات کے ذریعے اسے حروفِ تہجی سے متعارف کرایا۔ اس کے ہاتھ میں گڑیا پکڑا کروہ اس کے ہاتھ پر گڑیا کے حروفِ تہجی لکھتی۔ اس کے ہاتھ پر پانی کے نل سے پانی گرا کر اس کو پانی کے ہجے یاد کراتی۔ یہاں تک کہ ہیلن کے تجسس کی تسکین کے ل ئے مس سیلوان نے ہیلن کی ہتھیلی پر انڈے سے چوزہ نکلنے کا عمل تک مکمل کروایا۔ اس طرح ہیلن کیلر کی زندگی میں تعلیم کا آغاز ہوا اور بعد میں وہ مختلف مراحل طے کر کے وہ ایک شاندار مصنفہ بنی۔
ہیلن کی تعلیم کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب اس کی استاد نے بریل پر چھپی ہوئی کتابین منگوائیں۔ اس دور میں ہیلن بہت محنتی اور ہوشیارشاگرد ثابت ہوئی اور بڑی آسانی اور جوش سے اس نے ابھری ہوئی تحریروں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی اسے پڑھنا اور لکھنا آگیا وہ خود خطوط لکھنے لگی۔ اس کے خطوط سے اس کی غیر معمولی سوجھ بوجھ اور اس کے دلچسپ خیالات کا اندازہ ہوتا تھا۔ جب خود اس کے پاس کوئی خط آتا تو وہ اپنی انگلیوں سے سطور کا مطلب نکالتی۔
جب ہیلن کی عمر آٹھ سال ہوئی تو مس سلیوان نے طے کیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ وہ دوسرے بچوں سے ملے۔ چنانچہ وہ اسے بوسٹن پرکنس انسٹی ٹیوشن لے گئی۔ہیلن کی یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ اور بھی بچے ایسے تھے جواسی کی زبان میں باتین کرتے تھے اور جب وہ گرمجوشی سے اس کا ہاتھ دباتے تو اسے محسوس ہوتا کہ اس کے اور ان کے درمیان ایک غیر مرئی رشتہ ہے۔
1890 میں جب ہیلن کی عمر10 سال تھی تو اس کی استانی اس کو مختلف مشقیں کراتی تھی جن کی مدد سے ہیلن کیلر مختلف انگریزی حروفِ تہجی کی آوازیں نکالنے کے قابل ہو گئی تاہم وہ بھرپور الفاظ نہ نکال سکتی تھی اور اس کے بولے ہوئے الفاظ صرف اس کی استانی ہی سمجھ سکتی تھی۔
1900 میں ہیلن کیلر نے یونانی، لاطینی، جرمن ،الجبرا اور جیومٹری کے امتحانات پاس کئے اور ریڈکلف کالج میں داخل ہو گئی۔کالج میں اس نے اگرچہ نہایت مصروفیت کے عالم میں چار سال گزارے لیکن اس عرصہ میں اس نے دو کتابیں ”میرے زندگی کی کہانی“ اور ”رجائیت“ تخلیق کیں ۔ ان کتابوں میں اس نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ مسرت اور شادمانی کی بدولت اس قابل ہو سکی ہے کہ وہ معاشرے کی خدمت کر سکے۔کالج کی رسمی تعلیم ڈپلومہ حاصل کرنے پر ختم ہو گئی تاہم اس کی غیر رسمی تعلیم کبھی ختم نہ ہوئی اور انگریزی ،فرانسیسی اور جرمن کتب کو پڑھتی رہی اور نئے جوش و خروش سے لکھتی رہی۔ دوسروں کی مدد کر کے وہ خوشی محسوس کرتی۔ وفاہِ عام کے کاموں اور قلمی امداد سے کبھی گریز نہ کرتی۔ اس کی زیادہ تر کوششیں اپنے ہی جیسے دیگر نابینا افراد کے لئے وقف تھیں۔وہ ذاتی طور پر دوسروں کی ہمت دلاتی اور ان کے دلوں میں زندہ رہنے کی لگن بڑھاتی۔ وہ نابینا افراد کے میسا چوسٹس کمیشن کی رکن بھی بنی۔ اسی طرح نابینا اور بہرے افراد کی دیگر کئی انجمنوں کی رکنیت بھی اس نے قبول کی۔
رفتہ رفتہ اس کی شہرت بڑھنے لگی اور ایک وقت آیا کہ اس کے پاس امریکہ اور یورپ کے دور دراز شہروں سے بھی خطوط آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ ہمیشہ ہر خط کا جواب دیتی۔اس کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ اس دور کے مشاہیر کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات تھے۔
شہر کی نسبت ہیلن کو دیہات کا ماحول زیادہ پسند تھا۔وہ فطرت کو نہایت قریب سے دیکھنا پسند کرتی تھی۔ وہ نہایت باہمت اور دلیر خاتون تھیں۔اس نے تمام عمرمایوسی کو قریب نہ پھٹکنے دیا اور اپنے عزم وہمت سے معذوروں اور صحت مندوں کی دنیا میں ایک ایسی روشن مثال قائم کر دی جس کو دنیا یاد رکھے گی۔اس نے88 سال کی طویل عمر پائی اور 1968 میں اس کا انتقال ہوا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے