بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینملکہ نور جہاں (مہر النساء)

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملکہ نور جہاں (مہر النساء)
اعتماد الدولہ میرزا غیاث بیگم کی بیٹی اور نور الدین محمد جہانگیر کی لاڈلی بیوی کا نام مہرالنساء تھا جس نے جہانگیر کے دل ودماغ پر اس طرح قبضہ کر لیا کہ
اعتماد الدولہ میرزا غیاث بیگم کی بیٹی اور نور الدین محمد جہانگیر کی لاڈلی بیوی کا نام مہرالنساء تھا جس نے جہانگیر کے دل ودماغ پر اس طرح قبضہ کر لیا کہ پورے ہندوستان میں اس کے نام کا سکہ چلتاتھا۔ شاہی حرم میں داخل ہونے کے بعد مہر النساء کا ستارہٴ اقبال روز بروز بلند ہوتا گیا۔ اپنی لیاقت، سلیقہ شعاری، ذہانت اور خوش اخلاقی کی بدولت وہ جہانگیر کے مزاج پر پوری طرح حاوی ہوتی گئی۔ بادشاہ نے اسے پہلے نورمحل اور پھر نور جہاں کا خطاب دیا۔ یہ خطاب ایسا مشہور ہو اکہ بقول مولانا محمد حسین آزاد:
”حرم سرائے میں ایک سے بڑھ کر ایک رانی تھی لیکن نور جہاں نے سب کے چراغ بے نو ر کر دئیے۔ صرف خطبہ مین اس کا نام نہیں لیا جاتا تھا لیکن باقی تمام لوازمِ سلطنت میں اس کا دخل تھا۔“
جہانگیر کے حکم سے نور جہاں کے نام کا سکہ بھی جاری ہوا۔
نور جہاں کے والد میرزا غیاث کا تعلق ایک معزز ایرانی خاندان سے تھا۔ اس نے اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کی تھی اور پہلے محمد خان تکلو حاکم خراسان کا وزیر اور بعد میں شہا طہماسپ صفوی اول کی طرف سے حاکم مرو مقرر ہوا۔ اس خاندان پر کسی وقت ایسی افتاد آپڑی کہ میرزا غیاث بیگ کی واہل وعیال سمیت بحالِ خستہ تلاشِ روزگار کے لئے ایران سے نکلنا پڑا۔ دسویں صدی ہجری میں اس نے ہندوستان کا رخ کیا۔ اثنائے سفر قندھار کے نزدیک اس کی اہلیہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس نام مہر النساء رکھا گیا۔ میرازا غیاث بیگ ہندوستان پہنچا تو اکبر بادشاہ کے دربار تک اس کی رسائی ہوگئی۔ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی لیاقت وقابلیت کی بدولت وہ دیوانِ بیوتات مقرر ہو گیا اوربادشاہ سے اعتماد الدولہ کا خطاب پایا۔ میرزا غیاث بیگ نے نورجہاں کی تعلیم وتربیت کا خیال رکھا۔ وہ بہت ذہین وفطین لڑکی تھی۔ اس نے قرآن مجید ختم کرنے کے بعد مختلف علوم میں بھی دسترس حاصل کر لی اور فارسی زبان جو اس کی مادری زبان تھی اس کے شعر وادب میں بھی ماہرانہ دستگاہ حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ امورِ خانہ داری اور شاہی محل سے تعلق داری کے باعث ادب اور سلیقہ میں وہ شہزادیوں کہ ہم پلہ نظر آنے لگی۔جب وہ شادی کی عمر کو پہنچی تو والدین نے اسے شاہی دربار سے وابستہ ایک لائق فائق نوجوان علی قلی خان سے بیاہ دیا۔ بادشاہ نے علی قلی خان کی خدمات سے خوش ہو کر اسے شیرافگن کا خطاب دیا۔(ایک روایت ہے کہ یہ خطاب جہانگیر نے اسے اپنی شہزادگی کے دور میں دیا۔) شیرافگن اور مہرالنساء کی ازدواجی زندگی نہایت خوشگوار گزر رہی تھی۔ خدا نے ان کو ایک بیٹی دی جس کا نام لاڈلی بیگم رکھا گیا۔ جہانگیر اپنی تزک میں لکھتا ہے:
”میرے والد اکثر مجھ سے بے التفاتی ظاہر کرتے تھے اس لئے ان کی یہ بے رخی دیکھ کر میرے اکثر ہمراہی مجھ سے جدا ہو گئے۔ ان میں علی قلی خان بھی تھا حالانکہ میں نے اس پر بڑی بڑی عنایات کی تھیں۔ اس پر بھی میں نے بادشاہ بن کر اس کی تقصیرات معاف کردیں اور اس کو بنگال میں جاگیر عطا کی لیکن وہاں اس نے شاہی آدمیوں سے فساد شروع کر دیا۔ میں نے اپنے کوکا( دودھ شریک بھائی) قطب الدین خان کو اس کی تنبیہ کے لئے بھیجا لیکن علی قلی خان نے اس کو قتل کر دیا۔ قطب الدین کے ایک کشمیری ساتھی رئیس زادہ انبہ خان نے جو والیانِ کشمیر کی اولاد میں سے تھا اور ایک ہزار ذات اور تین سو سوار منصب سے سرفراز تھا علی قلی کے ساتھ دست بدست لڑائی کی۔ اسی لڑائی میں دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے۔“
شرافگن کے قتل کے بعد اعتماد الدولہ نے اپنی بیٹی مہرالنساء کو اکبر بادشاہ کی بیوہ اور جہانگیر کی سوتیلی ماں سلیمہ بیگم کی خدمت گزاری کے لئے اس کے محل میں بھیج دیا۔ وہیں1020 ھ کے جشن نوروز میں جہانگیر نے اسے دیکھا اور اس کے حسن خدا داد اورعادات واطوار سے اس قدر متاثر ہو ا کہ اپنی سوتیلی ماں کی معرفت اس سے شادی کر لی۔بعض موٴرخین نے لکھا ہے کہ جہانگیر مہرالنساء کو اپنی شہزادگی کے زمانے سے چاہتا تھا اور اس نے شیرافگن کو خود مروادیا تاکہ نور جہاں سے شادی کر سکے لیکن ی سب من گھڑت قصے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ کسی مستند تاریخ سے ان کا ثبوت ملتا ہے۔
جہانگیر نورجہاں سے بے حد الفت رکھتا تھا۔ اس لئے سفروحضر میں ہمیشہ اسے اپنے ساتھ رکھتا تھا حتیٰ کہ شکار پر بھی اپنے ساتھ لے جاتا۔1028ھ/ 1619 میں وہ فتح پور سیکری کے قریب شکار کھیل رہا تھا کہ نور جہاں نے بندوق کی پہلی ہی گولی سے شیر کو مار ڈالا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس کی بہادری کی بہت تعریف کی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر نور جہاں نے چار شر مارے۔ 1029 ھ/ 1620 میں جہانگیر نے اپنے بیٹے شہریار کی منگنی نور جہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم سے کر دی۔ لاڈلی بیگم شیرافگن کے صلب سے تھی اور شہریار جہانگیر کی ایک دوسری بیوی (یا کنیز) کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔
شہریار اور لاڈلی بیگم کی شادی کے بعد نور جہاں نے پس پردہ رہ کر سیاست میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا اس کا مقصد اپنے داماد شہریار کے لئے جہانگیر کی جانشینی کی راہ ہموار کرنا تھا اس کے ساتھ ہی اس نے جہانگیر کی خدمت گزاری میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ وہ اس کی صحت کا بے حد خیال رکھتی تھی۔ جہانگیر بلانوش تھا لیکن نور جہاں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ حد اعتدال میں رہے۔ رفتہ رفتہ وہ جہانگیر کے مزاج میں اس قدر دخیل ہو گئی کہ خود بادشاہ نے کہا:
”میں نے سلطنت نورجہاں بیگم کو بخش دی۔مجھے ایک سیرشراب اور نصف سیر گوشت کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔“
لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہانگیر نے عدل وانصاف کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اس معاملے میں وہ نور جہان کو بھی بہ بخشتا تھا۔ اس نے نور جہاں سے صاف صاف کہہ دیا تھا:
” سلطنت بے شک تمہاری ہے مگر خبردار، کس سے بے انصافی نہ ہونے پائے“
ایک دو موقعوں پر لوگ نور جہاں کی زیادتی کے شکار ہوئے تو جہانگیر نے سختی سے نورجہاں کا محاسبہ کیا اور جب تک نو جہاں نے مظالموں کو کچھ دے دلا کر راضی نہ کر لیا، جہانگیر نے اسے معاف نہ کیا۔
نور جہاں کی سیاسی زندگی کے حالات بڑی تفصیل کے متقاضی ہیں اور چند سطروں میں ان کا خلاصہ صرف یہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شہریار کو جہانگیر کے بعد تخت پر بٹھانے کی خواہشمند تھی لیکن تقدیر کا ستارہ شہزادہ خرم (شاہجہاں) کے حق میں چمکا۔ نور جہاں کی کوششیں ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ شاہجہاں نے برسر اقتدار آکر شہریار کی آنکھوں میں سے پہلے سلائی پھرائی پھر اسے قتل کر اد یا۔ اس کے بعد نور جہاں نے سیاست میں حصہ لینا بالکل چھوڑ دیا اور ملکی معاملات سے الگ تھلک ہو کر گوشہ نشینی کرلی۔ جہانگیر کے انتقال کے بعد وہ اٹھارہ سال تک زندہ رہی۔ یہ سارا عرصہ اس نے لاہور میں گزارا۔ شاہجہاں نے اس کا دو لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔
سیاست سے ہٹ کر نورجہاں کی زندگی کا میابیوں کی ایک داستان ہے۔ اس نے زیور، پوشاک، بناوٴ سنگھار اور آرائش کی دیگر چیزوں میں نت نئی ایجادات کیں۔ گلاب کے عطر اس کی ہی ایجاد ہے۔ شعر وادب میں اسے خاس دلچسپی تھی۔ وہ ایک خوش فکر اور نازک خیال شاعرہ تھی اور نہایت علم دوست ،بذلہ سنج اور حاضر جواب خاتون تھی۔تاریخ اور تذکروں میں اس کی معارف پروری ، علمی استعداد ، سخن فہمی اور سخن سنجی کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ اس نے جہانگیر کی وفات سے پہلے ہی آگرہ میں اپنے والد اعتماد الدولہ کا عظیم الشان مقبرہ تعمیر کروایا۔ ضلع جالندھر میں ایک خوش وضع اور خوش نظرعمارت تعمیر کروائی جو نورمحل سرائے کے نام سے مشہور ہوئی اور اسی نام سے ایک قصہ وہاں آباد ہو گیا۔
جہانگیر کی وفات کے بعد اس نے بے حد سادہ زندگی اختیار کر لی۔ اپنے وظیفے کا بیشتر حصہ وہ علم کی اشاعت ،صدقہ وخیرات اور یتیم لڑکوں لڑکیوں کی پرورش پر صرف کر دیتی تھی۔موٴرخین نے لکھا ہے کہ اس نے پانچ سے زائد غریب لڑکیوں کی شادیاں اپنی گرہ سے کروائیں اور جہیز وغیرہ کے اخراجات خو د ادا کئے۔
نورجہاں نے 29 شوال1055 ھ یا یکم ربیع الثانی1055ھ بمطابق 27 مئی 1645 میں لاہور میں وفات پائی۔ اس کامقبرہ شاہدرہ لاہور میں مقبرہ جہانگیر کے قریب واقع ہے۔ اس کی بیٹی لاڈلی بیگم بھی وفات کے بعد وہیں دفن ہوئی۔

(2) ووٹ وصول ہوئے